دی سمپسنز کارٹون کے تخلیق کار اسٹیو پیپون انتقال کرگئے
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
امریکی ٹیلی ویژن کی تاریخ کے سب سے مقبول اینیمیٹڈ سیریز ’’دی سمپسنز‘‘ کے ایمی ایوارڈ یافتہ مصنف اسٹیو پیپون 68 سال کی عمر میں داعیٔ اجل کو لبیک کہہ گئے۔
اسٹیو پیپون کی اہلیہ میری اسٹیفنسن نے اس المناک واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کافی عرصے سے دل کی بیماری ’کارڈیک ایمائیلوئیڈوسس‘ کا شکار تھے۔
پیپون نے اپنے کیریئر کا آغاز 1989 میں ’’دی سمپسنز‘‘ سے کیا تھا، جو آج تک دنیا بھر میں مقبول ہے۔ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو 1991 میں اس وقت بین الاقوامی پذیرائی ملی جب ان کی لکھی ہوئی قسط "Homer vs.
ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا ایک اور قابل ذکر پہلو یہ تھا کہ ’’دی سمپسنز‘‘ میں پیش کی گئی کہانیوں نے کئی بار حقیقت کا روپ دھار لیا۔ 1993 میں ایک وبائی بیماری کی پیش گوئی سے لے کر 2021 میں خلائی سیاحت کی درست پیش گوئی تک، یہ سیریز ہمیشہ سے معاشرتی رجحانات کو بے نقاب کرتی رہی ہے۔
پیپون نے نہ صرف ’’دی سمپسنز‘‘ بلکہ ’’روزین‘‘ اور ’’دی وائلڈ تھورن بیریز‘‘ جیسے مشہور شوز کےلیے بھی یادگار تحریریں تخلیق کیں۔ ان کی تحریروں میں طنز اور مزاح کے ساتھ ساتھ گہرے اخلاقی سوالات بھی پوشیدہ ہوتے تھے۔
ان کی وفات نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پوری ٹیلی ویژن انڈسٹری کےلیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ پیپون کی تخلیقات نے نہ صرف امریکی بلکہ عالمی ثقافت پر گہرا اثر چھوڑا ہے، اور ان کا کام آنے والی نسلوں کو متاثر کرتا رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔