امریکی ٹیلی ویژن کی تاریخ کے سب سے مقبول اینیمیٹڈ سیریز ’’دی سمپسنز‘‘ کے ایمی ایوارڈ یافتہ مصنف اسٹیو پیپون 68 سال کی عمر میں داعیٔ اجل کو لبیک کہہ گئے۔

اسٹیو پیپون کی اہلیہ میری اسٹیفنسن نے اس المناک واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کافی عرصے سے دل کی بیماری ’کارڈیک ایمائیلوئیڈوسس‘ کا شکار تھے۔

پیپون نے اپنے کیریئر کا آغاز 1989 میں ’’دی سمپسنز‘‘ سے کیا تھا، جو آج تک دنیا بھر میں مقبول ہے۔ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو 1991 میں اس وقت بین الاقوامی پذیرائی ملی جب ان کی لکھی ہوئی قسط "Homer vs.

Lisa and the 8th Commandment" نے ایمی ایوارڈ اپنے نام کیا۔

ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا ایک اور قابل ذکر پہلو یہ تھا کہ ’’دی سمپسنز‘‘ میں پیش کی گئی کہانیوں نے کئی بار حقیقت کا روپ دھار لیا۔ 1993 میں ایک وبائی بیماری کی پیش گوئی سے لے کر 2021 میں خلائی سیاحت کی درست پیش گوئی تک، یہ سیریز ہمیشہ سے معاشرتی رجحانات کو بے نقاب کرتی رہی ہے۔

پیپون نے نہ صرف ’’دی سمپسنز‘‘ بلکہ ’’روزین‘‘ اور ’’دی وائلڈ تھورن بیریز‘‘ جیسے مشہور شوز کےلیے بھی یادگار تحریریں تخلیق کیں۔ ان کی تحریروں میں طنز اور مزاح کے ساتھ ساتھ گہرے اخلاقی سوالات بھی پوشیدہ ہوتے تھے۔

ان کی وفات نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پوری ٹیلی ویژن انڈسٹری کےلیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ پیپون کی تخلیقات نے نہ صرف امریکی بلکہ عالمی ثقافت پر گہرا اثر چھوڑا ہے، اور ان کا کام آنے والی نسلوں کو متاثر کرتا رہے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے