اسرائیل غزہ میں خوراک کی کمی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، کینیڈین وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
کابینہ کے اجلاس سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کینیڈا کی نئی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ خوراک کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے، اسرائیلی جارحیت میں اب تک 50 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ کینیڈا کی نئی وزیر خارجہ انیتا آنند نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں خوراک کی کمی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ کابینہ کے اجلاس سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خوراک کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے، اسرائیلی جارحیت میں اب تک 50 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ خبر ایجنسی کے مطابق کینیڈین وزیر خارجہ نے اسرائیل پر حماس کیساتھ بات چیت سے مسئلے کے حل پر زور دیا۔ انیتا آنند نے کہا ہمیں غزہ میں جنگ بندی کے لیے مزید کام جاری رکھنے کی ضرورت ہے، دو ریاستی حل یقینی بنانا ہوگا، کینیڈا اس مؤقف پر برقرار رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔