بی جے پی رہنما کا بھارتی مسلمان خاتون افسر کیخلاف متنازع بیان، نیا تنازع کھڑا ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے وزیر نے بھارتی فوج کی کرنل صوفیہ قریشی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں پہلگام واقعے میں ملوث افراد کی بہن قرار دے دیا۔
بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی کے قبائلی امور کے وزیر کنور وجے شاہ نے بھارتی فوج کی مسلم خاتون افسر کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف متنازع اور نفرت انگیز بیان دے کر بھارت میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔
Almost 24 hours since a @BJP4India Madhya Pradesh MINISTER Kunwar Vijay Shah made a shockingly derogatory, openly communal and misogynist remark against India’s pride Colonel Sofia Qureshi.
— Sagarika Ghose (@sagarikaghose) May 14, 2025
مدھیہ پردیش کے ضلع اندور میں ایک عوامی اجتماع کے دوران وزیر نے آپریشن سندور پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنہوں (پہلگام واقعے میں ملوث نامعلوم افراد جنہیں بھارتی مسلمان قرار دیتے ہیں) نے ہماری بیٹیوں کو بیوہ کیا، ہم نے انہی لوگوں کی بہن کو بھیجا انہیں سبق سکھانے کے لیے۔
کنور وجے شاہ کے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیان کے بعد بھارت بھر میں شدید غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔
انڈین نیشنل کانگریس نے سوشل میڈیا پر سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی بہادر بیٹیوں کو دہشت گردوں کی بہنیں قرار دینا شرمناک ہے، یہ بیان نا صرف کرنل صوفیہ قریشی بلکہ پوری بھارتی فوج کی توہین ہے۔
کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی قیادت فوراً اس بیان پر معذرت کرے اور وزیر کو عہدے سے برطرف کیا جائے۔
بھارتی فوج کی کرنل صوفیہ قریشی نے آپریشن سندور کی تفصیلات بناتے ہوئے پاک فوج کی جوابی کارروائیوں میں بھارت کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیلات سے میڈیا کو آگاہ کیا تھا۔
Post Views: 6
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کرنل صوفیہ قریشی بھارتی فوج کی بی جے پی
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔