غنڈہ گردی کے آگے نہیں جھکیں گے، ایرانی صدر کا امریکی ہم منصب کو جواب
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
اپنے ایک بیان میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو کہا کہ آپ یہاں کیا ہمیں ڈرانے کے لیے آئے ہیں؟ ہم غنڈہ گردی کے آگے نہیں جھکیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلیجی ممالک کے دورے کے دوران تہران پر تنقید کا جواب سامنے آگیا۔ اپنے ایک بیان میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو کہا کہ آپ یہاں کیا ہمیں ڈرانے کے لیے آئے ہیں؟ ہم غنڈہ گردی کے آگے نہیں جھکیں گے۔ ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ سوچتا ہے کہ وہ یہاں آکر ہمیں ڈرا سکتا ہے۔ ہمارے لیے شہادت کی موت بستر پر مرنے سے زیادہ پیاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایرانی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔