راولپنڈی:

بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین صرف عمران خان ہیں، کسی کو شک ہے تو کیا کرسکتی ہوں، احکامات عمران خان ہی دیتے ہیں بیرسٹر گوہر کو صرف پیغام رسانی کے لیے تعینات کیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خبریں ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کی مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ڈیل ہو رہی ہے مجھے سمجھ نہیں  آرہی ہے یہ خبر کہاں سے آئی  ہے؟ بانی سے ہم نے یہی سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ نہیں۔

علیمہ خان نے کہا کہ نون لیگ کے ساتھ بانی پی ٹی آئی کس چیز پر بات کریں گے، یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے سارا مینڈیٹ چوری کیا تھا، چوروں کے ساتھ بیٹھ کر ہم بانی کی طرف سے کیا بات کریں گے؟ بانی پنجاب کی جیل میں ہیں، سارے ظلم اور کیسز پنجاب میں ہو رہے ہیں، آپ ان سے بات چیت میں کیا مانگیں گے؟

ان کا کہنا تھا کہ 26 ویں ترمیم خاص طور پر لائی گئی تاکہ بانی پی ٹی آئی کو انصاف نہ مل سکے، 26ویں ترمیم ہٹانی پڑے گئی تب ہی ججز کے پاس اختیارات آئیں گے، ہم تو ججز اور انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جان بوجھ کر ایک ہی دن دونوں کیسز لگا دیے جاتے ہیں، سمجھتے ہیں ہم مایوس ہوکر گھر چلے جائیں گے، ایک ہی دن میں دو دو کیسز لگا دیتے ہیں یہ چھبیسویں ترمیم کا نتیجہ ہے، ججز کو لحاظ ہوتا تھا تو وہ وکلاء کی بات سنتے تھے مگر اب چھبیسویں ترمیم نے ملک سے رول آف لاء ختم کردیا ہے، عوام کہتے ہیں آپ اسمبلی میں واپس جاکر فوری طور پر اس ترمیم کو ختم کروائیں اور پاکستان کو درست سمت میں لے آئیں۔

انہوں نے کہا کہ کنول شوزب کو شاید غلط سمجھ آئی تھی، انہوں نے کہا شہباز شریف نے چیئرمین پی ٹی آئی سے بات کی ہے، ہم حیران ہوگئے کہ شاید جیل میں کوئی بات چیت ہوئی، پی ٹی آئی کا چیئرمین صرف بانی ہی ہے، اگر کسی کو اس پر شک ہے تو میں کیا کرسکتی ہوں پارٹی سے متعلق تمام احکامات بانی پی ٹی آئی ہی دیتے ہیں انہوں ںے بیرسٹر گوہر کو صرف پیغام رسانی کے لیے تعینات کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی انہوں نے کہا پی ٹی آئی نے کہا کہ کے ساتھ

پڑھیں:

‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) ‏علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

(جاری ہے)

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان