واضح ہوگیا بھارت کا دنیا میں کوئی مددگار تھا تو وہ اسرائیل تھا: حافظ نعیم الرحمٰن
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن—فائل فوٹو
امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ یہ بالکل واضح ہو گیا کہ بھارت کا پوری دنیا میں اگر ساتھی اور مددگار تھا تو وہ اسرائیل تھا۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انسانیت کا امن مشرق وسطیٰ کے امن سے مشروط ہے، فلسطینی 100 سال سے بھی زائد عرصے سے اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ فلسطین میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شہید ہوئے، امریکا کی ذمے داری ہے کہ وہ اسرائیل کو روکے، بھارت بھی اسرائیل کی ٹیکنالوجی پر ہی لڑ رہا تھا لیکن پاکستان نے شکست دی۔
انہوں نے کہا کہ اگر وہ امن چاہتے ہیں، تجارت چاہتے ہیں تو اس جنگ کو روکنا پڑے گا، جواب دینا پڑے گا کہ جب اتنا قتل عام ہو رہا تھا تو امریکا کیا کر رہا تھا، جو احتجاج کر رہے ہیں ان طلباء کو امریکا سے ڈی پورٹ کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلم ممالک کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، عالمی عدالت نے نیتن یاہو کو مجرم قرار دیا ہے، اسے گرفتار ہونا چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ اسرائیل فلسطینیوں کو زمین سے بے دخل کرتا ہے، کشمیریوں پر ظلم کا نظام قائم کیا گیا ہے یہ سلسلہ ابھی تک رکا نہیں ہے، مسلسل فلسطینیوں کی بستیوں پر قبضہ جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحم ن
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔