اپنے ایک انٹرویو میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق، اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اِس سے امن معاہدہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ کی جانب سے ایک بار پھر عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بحالی کے "ابراہیم معاہدے" پر عملدرآمد کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ جس پر ایک عرب ملک کی حیثیت سے ردعمل دیتے ہوئے عراقی وزیراعظم "محمد شیاع السوڈانی" نے کہا کہ بغداد، ابراہیم معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار سکائی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر محمد شیاع السوڈانی نے کہا کہ عراق، اسرائیل کو تسلیم کرنے یا "تل ابیب" سے امن معاہدہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے عراق اپنے عربی موقف پر ڈٹا ہوا ہے۔ اپنے انٹرویو کے ایک دوسرے حصے میں انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت، اپنی رٹ قائم کرنے اور غیر سرکاری اداروں کو غیر مسلح کرنے کا عزم رکھتی ہے۔ 

عراقی وزیراعظم نے کہا کہ مذکورہ بالا نقطہ نظر ریاست کی اتھارٹی اور استحکام کو مضبوط کرنے کے اہم ستونوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت ایک قانونی، سیاسی اور حفاظتی روڈ میپ کے ذریعے سیکورٹی اداروں کو مضبوط کر رہی ہے۔ جس کا مقصد بندوق کی ملکیت کو محدود کرنا ہے۔ کیونکہ بندوق کی ملکیت کا دوہرا معیار ریاست کے تصور سے مطابقت نہیں رکھتا۔ واضح رہے کہ چند روز قبل "ڈونلڈ ٹرامپ" کے نمائندہ خصوصی برائے امور مشرق وسطیٰ "اسٹیو ویٹکاف" نے کہا کہ ممکن ہے کہ سعودی عرب، لیبیاء، لبنان اور شام آنے والے دِنوں میں اسرائیل سے تعلقات بحال کرنے کے لئے ابراہیم معاہدے کا حصہ بنیں۔ انہوں نے اسی کے ضمن میں کہا کہ آرمینیاء اور آذربائیجان بھی ابراہیم معاہدے کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ حالانکہ دونوں ممالک 1992ء سے اسرائیل سے سفارتی تعلقات رکھتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ابراہیم معاہدے کا حصہ نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے

امریکی فوج کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کے دعوے کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے قشم جزیرے میں موجود ایک ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔

سینٹ کام کے مطابق امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے۔

امریکی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بعض بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل راستے میں گر گئے جبکہ بحرین کی طرف بڑھنے والے تین میزائل امریکی اور بحرینی فورسز نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔

اسی دوران امریکی فوج نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب رواں تھا۔

امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز پر بوٹسوانا کا پرچم لہرا رہا تھا۔

مزید پڑھیں

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی کا فوری جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قشم میں کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوابی کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، بعض فضائی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر مراکز کو ہدف بنایا گیا۔

پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دینا ناگزیر تھا اور خطے میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔

عرب میڈیا کے مطابق بحرین، کویت اور عراق میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ بحرین کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔

بحرینی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی قیمت امریکا کو چکانا پڑے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا