پاک فضائیہ فضاوں کی کنگ، ہم کسی ملک کی برتری کو تسلیم نہیں کرتے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار WhatsAppFacebookTwitter 0 15 May, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز)نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہاہے کہ 10مئی کی صبح سوا 8بجے مارکو روبیو کا پہلا فون آیا، مارکو روبیو نے کہا بھارت جنگ بندی کیلئے تیار ہے، میں نے کہا اگر بھارت سیزفائر کیلئے تیار ہے تو پھر ہم بھی تیار ہیں، 10مئی کو سیز فائر کی 12تک بات ہوئی،پھر 12 سے 14 تک ہوئی، آج پھر 18مئی تک سیز فائر بڑھا دی گئی ہے، مسلح افواج کی بہادری اور جوانمردی سیفتح نصیب ہوئی، بھارت کے6 طیارے اور ایک یو اے وی گرایا گیا، پاک فضائیہ فضاں کی کنگ بن چکی ہے ، کچھ ممالک نے کہا جو کچھ ہوا ہے بھارت پنچ مارے گا، میں نے جواب دیا اگر بھارت پنچ ماریگا تو ہم بھی جوابی پنچ ماریں گے، بھارت کو تقریبا3ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے، بھارت کے3 رافیل،2مگ اورایک سخوئی 30تھرٹی گراہے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پلوامہ کے وقت بھی 13دن کے بعد بھارت نے ایک قدم اٹھایا، پہلگام واقعہ کے بعد بھارت نے اٹاری بارڈ بند کیا، پاکستانیوں کے بھارتی ویزے منسوخ کر دیئے گئے، بھارت نے پاکستان کیخلاف اور بھی اقدامات کیے، بھارت نے پاکستان کے دفاعی اتاشیوں کوناپسندیدہ قرار دے کر نکل جانے کو کہا،پاکستان نے 24اپریل کو بھارتی اقدامات کا منہ توڑ جواب دیا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے بھارتی اقدامات کے جواب میں انڈین ایئرلائنز کی فضائی حدود بند کر دی، ہم نے بھارتیوں کے ویزے منسوخ کیے، سکھوں کے ویزے ختم نہیں کیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بھارتی دفاعی اتاشیوں کو پاکستان چھوڑنے کا کہہ دیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ پرسوں تک تقریبا 60 ممالک کے نائب وزرائے اعظم اور وزرائے خارجہ سے رابطے ہوئے، ہم نے سب سے کہا صبر کا مظاہرہ کررہے ہیں، بھارتی اقدامات کا جواب دیا، عالمی رہنماں کو یقین دلایا اگر بھارت کو ئی قدم نہیں اٹھائے گا تو ہم بھی کچھ نہیں کریں گے، پلوامہ میں ہم بھارت کا بیانیہ نہیں توڑ سکے، نہ ہی ہم دنیا کو قائل کر سکے، پہلگام واقعہ کے بعد وزیراعظم نے شفاف تحقیقات کی پیشکش کی، اس بار پاکستان نے بھارت کا بیانیہ نہیں بکنے دیا، ہم نے دنیا میں ثابت کیا کہ بھارت غلط بیانی کررہاہے، کچھ ممالک نے کہا جو کچھ ہوا ہے بھارت پنچ مارے گا، میں نے جواب دیا اگر بھارت پنچ ماریگا تو ہم بھی جوابی پنچ ماریں گے۔
ہم نے سلامتی کونسل میں پہلگام واقعہ کی مذمت نہیں کی، ہم نے واضح مقف اپنایا بھارت نے جعفر ایکسپریس کی مذمت نہیں کی،ہم بھی نہیں کریں گے، ہم نے سلامتی کونسل کی مذمتی قرارداد میں پہلگام کے ساتھ جمہوں وکشمیر کے الفاظ لکھوائے، دوسرا ہم نے مذمتی قرارداد سے ٹی آر ایف کے الفاظ نکلوائے، ہم نے مذمتی قرارداد میں اپنے2مطالبات تسلیم کرائے،2دن قرارداد پاس نہیں ہونے دی۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے کسی ملک سے جنگ بندی کی درخواست نہیں کی، میں نے بتایا60ممالک کے رہنماں سے رابطے ہوئے کسی کو سیزفائر کرانے کا نہیں کیا۔
نائب وزیراعظم کا کہناتھا کہ حکومت نے افواج پاکستان کو ملکی دفاع میں جوابی کارروائی کا اختیار سونپ دیاتھا، 29اور 30 اپریل کی درمیانی رات بھارتی طیارے اڑے، پاکستان کا رخ کیا، بھارت کے تقریبا 75 طیاروں نے پاکستان کا رخ کیا جن میں رافیل بھی شامل تھے، 6طیاروں نے پنجاب میں 4نے آزادکشمیرمیں حملے کیے، 2مساجد کو یہ کہہ کر شہید کیے کہ ہم نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، پاک فضائیہ کو ہدایت تھی جو پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرے اسے ٹارگٹ کریں، مزید ہدایت تھی جو طیارے پاکستانی حدود میں داخل ہو کرحملہ کریں تو اس وقت ٹارگٹ کرناہے۔اسحاق ڈار کا کہناتھا کہ ابھی کامرہ ایئر بیس سے سینیٹ اجلاس میں آیا ہوں، اسی لیے آنے میں تاخیر ہوئی، کامرہ ایئربیس پر دفاعی معاملات پر بات چیت ہوئی، اللہ کے کرم،افواج پاکستان کی بہادری سے پاکستان کو فتح نصیب ہوئی، بھارت کے6طیارے اور ایک یو اے سی گرایا گیا، بھارت نے 7مئی کی رات جھوٹ بولا کہ پاکستان نے ہماری 15فوجی تنصیبات پر حملہ کر دیا، بھارت نے پاکستان کیخلاف اکسانے کیلئے سکھ برادری کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی،بھارت نے سکھ برادری کو اکسانے کیلئے امرتسر پر میزائل داغے۔
ان کا کہناتھا کہ پاکستان نے7مئی کی صبح بھی دفاع میں جوابی کارروائی کی، پاکستان نے10مئی کی صبح بھی وطن کے دفاع کیلئے منہ توڑ جواب دیا، پاکستان نیدفاعی حکمت عملی کے تحت اپنی حدود میں رہتے ہوئیدشمن کو مایوس کیا، پاکستانی طیاروں کو ہدایات تھیں اگر دشمن اسپیس کراس کرے تو فورا کارروائی کریں، جو بھارتی ڈرون پاکستانی حدود میں داخل ہوا تباہ کر دیا گیا، سات مئی کو انڈیا کو فضائی محاذ پر شرمناک ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، پاکستانی فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت اور چوکسی نیدشمن کے عزائم خاک میں ملا دیئے، بھارت نینورخان ایئربیس سمیت دیگر تنصیبات پر حملہ کیا تو جوابی کارروائی کی گئی۔انہوں نے کہا کہ جن طیاروں نے پاکستان کیخلاف پیلوڈ ریلیزکیا انہیں نشانہ بنانیکی پالیسی پرعمل کیا گیا، ثابت ہوگیا کہ کسی کی بالادستی نہیں، مسلح افواج کی بہادری اور جوانمردی سے فتح نصیب ہوئی، بھارت کے6 طیارے اور ایک یو اے وی گرایا گیا، پاک فضائیہ فضاوں کی کنگ بن چکی ہے، بھارت نے 6 اور7 مئی کی درمیانی رات حملے کیے، پنجاب کے4 اور کشمیر کے دو مقامات کو نشانہ بنایا گیا، اس دوران بھارت نے چوبیس حملے کیے، جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا ان کو دہشتگرد ٹھکانے کہا گیا، دو مساجد کو شہید اور چار دیگر مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ تمام اہداف پرامن شہری مقامات نکلے بھارتی بیانیہ عالمی سطح پر بے نقاب ہو گیا۔
اسحاق ڈار کا کہناتھا کہ پوری دنیا کو دعوت ہے آئیں دیکھ کون سے مقامات دہشتگرد ٹھکانے تھے، پاکستان کا ایک جہاز بھی متاثر نہیں ہوا، پاکستان نییو این چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا۔ 10مئی کی صبح سوا 8بجے مارکو روبیو کا پہلا فون آیا، مارکو روبیو نے کہا بھارت جنگ بندی کیلئے تیار ہے، میں نے کہا اگر بھارت سیزفائر کیلئے تیار ہے تو پھر ہم بھی تیار ہیں، روبیو سے کہا آپ یقینی بنائیں گے کہ بھارت سیز فائر پرعمل کرے گا، اس فون کے بعد افواج پاکستان کو آگاہ کیا گیا اور سیز فائر کی گئی۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ ایک گھنٹے بعد سعودی عرب کے شہزادہ فیصل کا فون آیا، انہوں نے سیز فائر پربات کی، شہزادہ فیصل نے کہا مارکو روبیو نے سیز فائر کیلئے بات کی، میں نے گفتگو سے آگاہ کیا، شہزادہ فیصل نے کہا کیامیں جیشنکرکو آپ کے مقف سے آگاہ کردوں، میں نے کہا بتادیں، آدھے گھنٹے کے بعد شہزادہ فیصل نے دوبارہ رابطہ کیاکہ جے شنکر کو آگاہ کردیاگیا ہے ۔
ان کا کہناتھا کہ 10مئی کو سیز فائر کی 12تک بات ہوئی،پھر 12 سے 14 تک ہوئی، آج پھر 18مئی تک سیز فائر بڑھا دی گئی ہے، جنوری 2023سے بھارت نے پانی سے متعلق مسائل بڑھا رکھے ہیں، ورلڈ بینک کے صدر نے بھی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر کل بیان دے دیا۔ بھارت کو تقریبا 3 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے، پاکستان نے بھارتی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، ہماری افواج نے کسی بھارتی آبادی کو نشانہ نہیں بنایا، ہمارے 11فوجی شہید ہوئے،40شہری شہید ہوئے، شہدا،زخمیوں کیلئے پیکیج دے رہے ہیں، 2012میں پاکستان صرف ایک ووٹ کی برتری سے سلامتی کونسل کا رکن بناتھا۔ سیز فائر کا ٹائم دوپہر میں ساڑھے 4 بجے ریکارڈ ہوا، وزیراعظم نے کہا کہ امن اور جنگ دونوں کیلئے تیار ہیں، ایوان قرارداد منظور کرے گا ، سیزفائر کے بعد رات گئے ایل اوسی پربھاری گولہ باری کی گئی جس کا بھرپورجواب دیا، مسائل سیاسی قیادت کے مذاکرات میں حل ہوں گے ، بھارت سے جامع مذاکرات ہوں گے ۔
بھارت کے3 رافیل،2مگ اورایک سخوئی 30تھرٹی گراہے، ہم کسی ملک کی برتری کو تسلیم نہیں کرتے، بھارت کی بالادستی کا زعم اللہ نے زمین بوس کردیا۔ صدرٹرمپ نے بھی مسئلہ کشمیر کے حل کا لکھ دیا ، سندھ طاس معاہدے کو معطل نہیں کیا جا سکتا ، سندھ طاس معاہدہ میں نہ تبدیلی ہوسکتی ہے نہ ختم ہوسکتا ہے ، بھارت کی کشمیر کو ہڑپ کرنے کی کوشش ناکام ہوگئی۔ان کا کہناتھا کہ بھارت کو تقریبا3ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے، پاکستان نے بھارتی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، ہماری افواج نے کسی بھارتی آبادی کو نشانہ نہیں بنایا، ہمارے 11فوجی شہید ہوئے،40شہری شہید ہوئے، شہدا،زخمیوں کیلئے پیکیج دے رہے ہیں۔ پاکستان نیطاقت کا توازن بحال کر کے یکطرفہ بھارتی بیانیہ رد کر دیا، ٹیلی گراف رپورٹ ہے پاکستان ایئر فورس فضاں کی بلاشرکتِ غیرے حکمران ہے، پہلے 24 گھنٹیمیں بھارت نے 9 ڈرونز بھیجے اگلے دن 80 حملے کیے، پاکستانی فوجی تنصیبات پر حملوں میں 4 اہلکار زخمی، دشمن کو منہ توڑ جواب دیا گیا۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بھارت نے نورخان ایئربیس، سکھر، رحیم یار خان پر حملے کیے ، پاکستان نے بھرپورجوابی کارروائی کی، پاکستان نے دشمن کی ہر حرکت پر دفاعی طور پر جواب دیا پہل کبھی نہیں کی، انٹرنیشنل میڈیا اور حکومتوں کو جھوٹے بھارتی دعوں پر شواہد کے ساتھ جواب دیا، F-16 کے حوالے سے بھارتی پروپیگنڈے کو امریکہ نے خود جھوٹا قرار دے دیا، بھارت کا دعوی کہ پاکستانی F-16 مار گرایا عالمی سطح پر مسترد کر دیا گیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرحکومت کی انکم ٹیکس ترمیمی بل 2024منظور کرانے کی کوشش ناکام حکومت کی انکم ٹیکس ترمیمی بل 2024منظور کرانے کی کوشش ناکام بہت جلد مقبوضہ کشمیر اور خالصتان اکٹھے آزاد ہونگے بانی تحریک انقلاب محمد عارف حکومت اور عمران خان کے درمیان ڈیل کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کا واضح اعلان پاکستان کا عالمی برادری سے بھارت میں ایٹمی تنصیبات اور مواد کی سیکیورٹی کا جائزہ لینے کا مطالبہ آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی، کل قومی سطح پر یوم تشکر منانے کا اعلان،مرکزی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہو گی پارٹی چیئرمین عمران خان ،بیرسٹر گوہر صرف پیغام رسانی کیلیے ہیں، عظمی خان TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: پاکستان نے بھارت جوابی کارروائی کو نشانہ بنایا کیلئے تیار ہے شہزادہ فیصل مارکو روبیو سیز فائر کی پاکستان کی پاکستان کا پاک فضائیہ کہ پاکستان نے پاکستان اسحاق ڈار شہید ہوئے اگر بھارت نے بھارتی بھارت پنچ نے کہا کہ جواب دیا حملے کیے بھارت کے کی برتری کہ بھارت بھارت نے بھارت کو انہوں نے نہیں کی کسی ملک کی کوشش کر دیا کی کنگ کی صبح ہم بھی کے بعد

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری