WE News:
2026-07-24@03:59:16 GMT

کیا پاکستان نے واقعی معاشی کرشمہ انجام دے دیا؟

اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT

کیا پاکستان نے واقعی معاشی کرشمہ انجام دے دیا؟

پاک بھارت کشیدگی کے بعد ایسا لگ رہا جیسے پاکستان پر قدرت مہربان ہوگئی ہو، مقامی ہو یا بین الاقوامی ادارے سب پاکستان کے حوالے سے مثبت خبریں رپورٹ کر رہے ہیں جبکہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے ساتھ معاہدے اور عالمی اتحادیوں کی مدد سے پاکستان نے معاشی میدان میں ایک غیر معمولی بحالی حاصل کی ہے جسے ایک رپورٹ میں ’میگامیکرو اکنامک کرشمہ‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیرِ خزانہ کی عالمی مالیاتی اداروں اور بینک حکام سے اہم ملاقاتیں، پاکستان کی معیشت پر مثبت تاثر اجاگر

پاکستان نے مہنگائی پر قابو پایا، کرنسی کی قدر کو مستحکم کیا، اسٹاک مارکیٹ میں زبردست اضافہ دیکھا (KSE-100 انڈیکس 3 گنا بڑھا) اور یورو بانڈز کی قدر میں بہتری آئی، یہ بحالی اس وقت ممکن ہوئی جب پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ سخت شرائط پر ایک معاہدہ کیا، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پالیسی ریٹ کو بلند سطح پر برقرار رکھا، اور چین، سعودی عرب، اور متحدہ عرب امارات جیسے اتحادیوں نے مالی مدد فراہم کی، پاکستان نے اپنی اقتصادی حالت کو وقتی طور پر بہتر کر لیا ہے، لیکن ابھی بھی معیشت بیرونی جھٹکوں کے لیے بہت حساس ہے۔

اس کے علاوہ معیشت کی بنیاد وسیع نہیں ہے جیسا کہ کچھ ہمسایہ ممالک میں دیکھی جاتی ہے، یعنی یہ چند شعبوں تک محدود ہے۔

سینیئر صحافی حمزہ گیلانی کا کہنا ہے کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم بہتری کی طرف جا کیوں رہے ہیں؟ مارکیٹ ڈاؤن فال کا شکار تھی سرمایہ کار یہاں سے بھاگ رہے تھے، بین الاقوامی سرمایہ نکل رہا تھا مقامی سرمایہ دار کہیں اور اپنا سرمایہ لگا رہے تھے یہ سب رک کیوں گیا ہے؟

اس حوالے سے حمزہ گیلانی بتاتے ہیں کہ سب سے پہلے تو شرح سود 22 فیصد کم ہو کر 11 فیصد پر آ چکا ہے جو کہ اب بھی زیادہ ہے اسے سنگل ڈیجٹ میں ہونا چاہیے جو آنے والے دنوں میں 9.

5 فیصد پر جا سکتا ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں مہنگائی بڑھنے کی رفتار 0.5 فیصد پر آگئی جو اس سے قبل بہت تھی اور یہی وجہ ہے کہ مسلسل شرح سود میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی شرح سود میں 3 فیصد تک کمی کی گنجائش موجود ہے لیکن ایک دم اسے کم کرنے سے امپورٹ بڑھے گی اور مہنگائی میں پھر سے اضافے کا امکان موجود ہے۔

حمزہ گیلانی کہتے ہیں کہ شرح سود کم ہونے کا فائدہ یہ ہے کہ لوگ کاروبار کیں پیسہ لگاتے ہیں اسکی چھوٹی مثال یہ ہے کہ لوگ گاڑی یا گھر کے کیے بینک سے رجوع کرتے ہیں جب بینک قرض دے گا تو نیا کاروبار بنے گا اور ایک کاروباری سائیکل وجود میں آئے گا یہی وجہ ہے شرح سود کو کم ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیے: زرمبادلہ کے ذخائر میں ریکارڈ اضافہ: وجہ کیا ہے اور پاکستانی معیشت کو کیا فائدہ ہوگا؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹیکسٹائل، سیمنٹ، فارما سمیت دس بڑی صنعتوں کو سامنے رکھ کر جانچا جاتا ہے کہ کتنی صنعتیں کام کر رہی ہیں اور کتنی بند ہو چکی ہیں مجموعی طور پر 7 ماہ قبل پاکستان میں بڑی صنعتیں ریڈ زون میں تھیں لیکن جب سے بجلی کی قیمتیں کم ہوئی ہیں تب سے ان صنعتوں میں بہتری آنا شروع ہو چکی ہے تو جب بڑی صنعتیں چلیں گی تو چھوٹی بھی چلنا شروع ہوں گی اور بجلی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان ہے جس کا براہ راست تعلق بڑی صنعتوں پر ہوگا۔

حمزہ گیلانی نے کہا کہ ٹیکسٹائل، آئی ٹی سیکٹر میں اضافہ ہوا، ترسیلات زر میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہے، بات کی جائے اسٹاک ایکسچینج کی تو 4 دن میں 15 ہزار پوائنٹس اضافہ ہوا پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے شئیرز اب بھی سستے ہیں اس وقت بین الاقوامی سرمایہ کار پاکستان کی سستی مارکیٹ کی طرف آ رہا ہے، جبکہ بھارت سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے کیوں کہ انہیں سستی مارکیٹ مل گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں آپ کو میڈ ان پاکستان ملے گا کیوں کہ سرمایہ اب پاکستان میں لگے گا، دس کمپنیاں پاکستان میں تیل اور گیس کی تلاش کریں گی لائسنسن مل چکا ہے جس سے نکلنے والا گیس اور تیل پاکستان کو ملے گا، مائنگ سیکٹر میں بھی کام شروع کردیا گیا ہے، اس وقت پاکستان کی مارکیٹ ڈیویلپمنٹ کی طرف جا رہی ہے، سونا مہنگا ہو چکا ہے اب لوگ اسٹاک یا پراپرٹی میں سرمایہ لگا رہے ہیں، یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے معاشی اعشاریے بہتر ہیں۔

مزید پڑھیں: آپریشن ’بنیان مرصوص‘ کی کامیابی سے پاکستانی معیشت کے لیے نئے دروازے کھل گئے، مگر کیسے؟

سینیئر صحافی تنویر ملک کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ بات کی جائے ترسیلات زر کی، یا روپے کی قدر کی یا پھر اسٹاک مارکیٹ کو دیکھا جائے پھر آئی ایم ایف کی قسط کی بات کی جائے ان تمام باتوں کے پیش نظر کچھ حد تک بہتری تو کہہ سکتے ہیں لیکن معیشت وہ ہے جو عام آدمی پر اثر انداز ہو لیکن عام آدمی پر اب تک اس کے اثرات نظر نہیں آرہے۔

تنویر ملک نے کہا کہ ہمارے ہاں مہنگائی بہت اوپر چلی گئی تھی اس وقت ہمیں اس کا بیس افکیٹ نظر آرہا ہے لیکن اشیا کی قیمتوں میں کمی عام آدمی محسوس نہیں کر پا رہا عام پاکستانی کی آمدن کم ہو رہی ہے اور انڈسٹریل گروتھ بھی ساتھ میں کم ہو رہی ہے پلانٹس بند ہو چکے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں خام مال باہر سے چاہیے ہوتا ہے، پاکستان میں خام مال اتنا نہیں ہے دوسری جانب ہماری زرعی ترقی بھی متاثر ہوئی یہ دونوں عوامل ہیں جن کے سبب ہم فی الوقت اپنی معیشت کو بہتر نہیں کہہ سکتے۔

تنویر ملک کا کہنا ہے کہ جس طرح انڈسٹریز چلنی چاہیے اس طرح نہیں چل رہی، اس وقت جو صورت حال ہے کچھ حد تک ضرورت بہتری آئی ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ ہماری معیشت دوڑنے لگی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستانی معیشت کی بحالی دیکھ کر خوشی ہوئی، چینی سفیر جیانگ ژی ڈونگ

انہوں نے کہا کہ معیشت آگے بڑھنے کا ایک پیمانہ یہ ہے کہ عام لوگوں پر اس کے کتنے اثرات ہوں گے، ہمارے ہاں ٹیکس بیس نہیں بڑھی چند سیکٹرز ہیں جن کا ٹیکس بڑا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے دنوں میں بجٹ آنے والا ہے جس میں ٹیکس بڑھانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان پاکستان کی معیشت پاکستان کی معیشت میں بہتری میگامیکرو اکنامک کرشمہ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کی معیشت پاکستان کی معیشت میں بہتری کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی حمزہ گیلانی پاکستان میں پاکستان نے پاکستان کی یہ ہے کہ چکا ہے رہا ہے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی