یوم آزادی اور معاشی غلامی
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
14 اگست 1947 کو جب پاکستان نے پہلا دن دیکھا تو خزانہ خالی تھا، صنعت نہ ہونے کے برابر تھی، ہندو صنعتکار جاتے ہوئے اپنی مشینریاں بھی اکھاڑ کر لے جا چکے تھے، معیشت کا انحصار زراعت پر تھا اور زراعت انتہائی پسماندگی کا شکار تھی۔
صنعت نہ ہونے کے باعث تمام بچا کچھا خام مال برآمد کر دیا جاتا تھا اور پھر وہ وقت بھی آیا جب قومی خزانے میں زرمبادلہ کے ذخائر شامل ہو رہے تھے۔ کارخانوں کی قطاریں لگتی چلی جا رہی تھیں، برآمدات 32 ارب ڈالر سے زائد پر آچکی تھی اور درآمدات میں اضافہ ہو رہا تھا، لیکن فرق اتنا ہے کہ 1947 میں ہم نے سیاسی آزادی حاصل کی تھی اور آج 78 برس بعد ہم معاشی غلامی کی زنجیریں پہنے ہوئے ہیں۔
1947 کے بعد کئی تباہ حال ملکوں نے خود کو سنبھالا، جرمنی نے جنگ کے بعد معاشی انقلاب برپا کر دیا، 50 کی دہائی میں پاکستانی حکومت نے جرمنی کو قرض بھی دیا، ہم آزاد تو ہیں لیکن ہمارے معاشی فیصلے واشنگٹن میں ہوتے ہیں۔
1947 میں ہم نے عہد کیا تھا کہ اپنے وسائل پر انحصار کریں گے، لیکن آج ہم بجلی کے نرخ آئی ایم ایف سے پوچھ کر طے کر رہے ہیں۔ کیوں کہ قرض کی قسط سے آزادی نہیں ملتی بلکہ مہلت ملتی ہے اور پھر مہلتیں ملتی رہتی ہیں، کسان کی گندم کی قیمت خرید، چینی کی درآمد پر اعتراض، پنشنرز کی پنشن میں اضافے کا فیصلہ، آئی ایم ایف نے کرنا ہو تو ایسی صورت میں آزادی کا قصیدہ نہیں پڑھ سکتے۔
ہمیں معاشی غلامی سے آزادی کا روڈ میپ تلاش کرنا ہوگا، ٹیکس نیٹ کو جلد ازجلد وسعت دیں، برآمد ویلیو ایڈیشن پرکام کریں، بنگلہ دیش نے ہمارے خام مال یا نیم تیار شدہ مال سے اپنا ریڈی میڈ اور ویلیو ایڈیشن والا مال تیار کر کے دنیا میں تقریباً 60 ارب ڈالر والا مال برآمد کر رہا ہے۔ گیس اور تیل وکوئلے کے مقامی ذخائر تلاش کرنا ہوں گے۔
سبسڈی سب کے لیے نہیں ہے بلکہ صرف مستحق رعایت کے حق دار ہیں، قرضوں کا مرحلہ وار خاتمہ کرنا ہوگا، اس وقت 130 ارب ڈالر سے زائد قرض کا طوق ہم نے اپنی گردن میں پھنسا لیا ہے، ان سب باتوں کے باوجود معیشت کے اس دھندلکے میں مواقعے بہت ہیں، سب سے اہم پاکستان کی یوتھ پاپولیشن ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ 60 فی صد سے زائد آبادی ہے جوکہ دنیا کی سب سے بڑی افرادی قوت میں سے ایک ہے۔
ہم ان کی تکنیکی تربیت کریں یا پھر امریکا جیسے ممالک سے جب معاہدہ کرتے ہیں تو ان کی اعلیٰ پیمانے پر تکنیکی تربیت کے منصوبے زیر غور لانے کی ضرورت ہے کہ جب عام شہری کی جیب میں سکے جب کھنک رہے ہوں تو ان کی آواز میں اطمینان کی موسیقی ہو جسے سن کر شہری کی چمکتی آنکھوں میں خوشی ہو اور یہ خوشی جب آئے گی جب روپیہ سر چڑھ کر بولے گا اور ڈالر زمین پر ڈھیر ہوگا۔
جشن آزادی کے رنگ برنگ جھنڈے معاشی خود مختاری کے رنگ میں رنگ کر خوب جھوم جھوم کر لہرائیں گے۔78 برس بعد ہماری معاشی ترقی کی شرح کی رفتار سست ترین ہے۔ 2024-25 کے مطابق معاشی شرح نمو کا حصول محض2.
2024-25 کے دوران ریکارڈ قرضے لے کر تقریباً 27 ارب ڈالر قرضوں کے سر پر مزید بوجھ چڑھا دیے گئے۔ ملکی معیشت قرضوں کی معیشت بن چکی ہے لہٰذا بجٹ بنتا ہے، منظور ہوتا ہے اور آئی ایم ایف کہتا ہے کہ بجٹ حجم کا بہت بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی میں چلا جا رہا ہے لہٰذا شرطیں مزید بڑھائی جا رہی ہیں۔
ایسا معلوم دے رہا ہے کہ آزادی کے دن کا جشن سیاسی حدود کو پھلانگ کر اقتصادی حقائق میں چھپنے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ بہت سے معاشی حقائق اب واضح ہو چکے ہیں اور تقاضا کر رہے ہیں کہ جلدازجلد معاشی معاملات کو کنٹرول کریں۔
تجارتی خسارے کو کم سے کم کیا جائے، ملک میں درآمدات کا بدل تیار کیا جائے تاکہ درآمدی مالیت میں کمی لائی جا سکے۔ اب خالی باتوں سے کام نہیں چلے گا کیونکہ یوم آزادی مناتے وقت صرف سیاسی آزادی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں، معاشی غلامی جن معاشی یا اقتصادی فیصلوں کے باعث آتی ہیں، اس کا قلع قمع کرنے کے لیے واضح، مرحلہ وار، سیاسی، تکنیکی، معاشی ہر سطح پر اقدامات کرنا ہوں گے۔
آئی ایم ایف پر منحصر فیصلہ سازی کو کم کرنا ہوگا، ٹیکس چور راستوں کو ختم کیا جائے، مافیاز کو کنٹرول کیا جائے، جیسے آج کل چینی کی قیمت پر حکومتی کنٹرول نہیں ہے۔ غیر ضروری امپورٹس معطل کر دی جائیں گھریلو صنعتوں کو پھیلایا جائے، ہنر اور ٹیکنیکل ایجوکیشن ہر ایک کے لیے مفت کر دی جائے، توانائی کی تلاش تیز تر کی جائے، سماجی بہبود کے پروگرام تعلیم اور صحت سب کے لیے مفت کا انتظام کیا جائے، کرپشن کا مکمل خاتمہ، اشرافیہ کو دی جانے والی تمام مراعات واپس لی جائیں۔ غریب کی فلاح و بہبود کو ترجیح دی جائے اور دیگر بہت سے پروگرام ہیں جن پر عملدرآمد کر کے حکومت یوم آزادی کے رنگ کو چوکھا کر سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: معاشی غلامی آئی ایم ایف کیا جائے ارب ڈالر کرنا ہو کے لیے رہا ہے
پڑھیں:
پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
راولپنڈی (آئی پی ایس )فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا۔راولپنڈی میں جنرل ہیڈ کوارٹرز میں 20ویں قومی ورکشاپ کے دوران بلوچستان سے تعلق رکھنے والے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی کوششیں اور عوامی حمایت بلوچستان میں دیرپا امن کے قیام کا باعث بنیں گی، جبکہ امن و استحکام کے لیے فورسز اور عوام کا تعاون ناگزیر ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، انہوں نے دہشتگردی کے بنیادی ڈھانچے کے خاتمے اور پاکستان کے خلاف سرگرم عناصر کے مکمل سدباب کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی سرپرستی میں سرگرم پراکسیز بلوچستان کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم مسلح افواج عوامی حمایت کے ساتھ دشمن کے تمام مذموم عزائم ناکام بنائیں گی۔ فیلڈ مارشل نے دہشتگردی کے خلاف جاری اقدامات اور قومی سلامتی کے لیے اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ اس موقع پر ورکشاپ کے شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی اور خودمختاری کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ اگلی خبرپاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم