جس نے پاکستان کے ساتھ دشمنی کی اس کا بیڑہ غرق ہوگیا، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایک چائے کے کپ کیلئے کابل گئے اور طالبان کیلئے دروازے کھولے گئے ، اب اسکا جواب کون دے گا؟ ، ادارے مل کر کام کر رہے ہیں تو یہ کچھ لوگوں کو ہضم نہیں ہو رہا، جس نے پاکستان کے ساتھ دشمنی کی اس کا بیڑہ غرق ہوگیا۔لاہور میں بزنس کمیونٹی کے اعزاز میں عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ جشن آزادی اور معرکہ حق کی فتح پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
نائب وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کے کاروباری نظام میں اتار چڑھاؤ کی سیاست کو سمجھتا ہوں، ریاست مدینہ کے بعد پاکستان دوسرا ملک ہے جو کلمہ کی بنیاد پر بنا، بہت بڑے بڑے عہدوں پر رہ چکا ہوں اور تمام معاملات کو قریب سے دیکھ چکا ہوں۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ چند عناصر کی وجہ سے اس ملک کی تقدیر نہیں بدل سکی ، 2016 میں ریکارڈ سطح پر شرح سود میں کمی آئی لیکن 2017 میں ایک ڈرامہ رچایا گیا جس نے پاکستان کی اکانومی میں بری طرح نقصان پہنچایا اور پھر اگلے چار سال پاکستان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔
امارات کی ثالثی میں روس اور یوکرین میں 168 قیدیوں کا تبادلہ
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ الحمدللہ پاکستان ڈیفالٹ سے نکل گیا ہے اور پالیسی ریٹ واپس آرہا ہے جبکہ بزنس کمیونٹی کے بڑے نام ملک چھوڑنے کی بات کر رہے تھے ، انہیں سمجھایا کہ پاکستان میں جھوٹی خبریں پھیلائی جاتی ہیں، ان پر دھیان مت دیں۔انہوں نے کہا کہ دو سال پہلے کہا جاتا تھا کہ پاکستان تنہائی کا شکار ہے، نہ کوئی ہم سے ملتا تھا اور نہ بلاتا تھا لیکن اب کیا حالات ہیں دنیا دیکھ رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لیے 100 ارب لگایا لیکن پھر افغانستان میں ایک چائے کے کپ پر بارڈر کھول دیے گیے اور طالبان کو خوش آمدید کہا گیا کہ آئیں آپ ہمارے بھائی ہیں جس کے بعد دوبارہ سے حالات کو اس نہج پر پہنچا دیا گیا ہے۔
آزاد کشمیر میں کلاوڈ برسٹ سے ایک ہی خاندان کے چھ افراد جاں بحق ہو گئے
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ان شااللہ دوبارہ سے پاکستان سے دہشتگردی کا خاتمہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پالیسیوں کے تسلسل کی بہت ضرورت ہے، سیاسی تبدیلی سے معاشی پالیسی میں تبدیلی نہیں آنی چاہیے، اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو قیامت تک قائم ودائم رکھنا ہے، ہم اب تک اپنا وہ مقام حاصل نہیں کرسکے جو کرنا چاہیے تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران پر حملے کے خلاف پاکستان نے کھل کر اظہار کیا جس پر دنیا نے حیرانی کا اظہار کیا کہ امریکا ناراض ہوسکتا ہے لیکن ہم نے کہا کہ دوستی کا یہ مطلب نہیں کہ غلط کو سہی کہا جائے اور اسکا یہ نتیجہ نکلا کہ ایران نے اپنے پارلیمنٹ میں پاکستان کی تعریف کی۔
مقبوضہ کشمیر میں بادل پھٹ گیا، 46 افراد ہلاک، 150 زخمی
نائب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہم تو ترقی کی طرف بڑھ رہے تھے دشمن نے پہلگام کا الزام لگا دیا جس کے بعد ہم نے خود شفاف تحقیقات کے لیے بات کی اور اس دوران دنیا کے تحقیقاتی اداروں کے ساتھ رابطے میں رہے لیکن انڈیا کو شایدغرور تھا کہ وہ خطے کا چوہدری ہے تاہم اللہ نے اسکا غرور خاک میں ملا دیا اور ہماری افواج نے منہ توڑ جواب دیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان اسلام کا قلعہ بنے گا اور پاکستان کو اس مقام پر لے کر جانا ہے جو قائداعظم کا خواب تھا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ نے پاکستان پاکستان کے اسحاق ڈار نے کہا کہ کے ساتھ
پڑھیں:
لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
فوٹو: آن لائنلاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا، ڈی ايچ اے اور ہربنس پورہ انڈر پاس پانی سے بھر گئے، ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے۔
تاج پورہ اور ایئرپورٹ کے قریب علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، گاڑیاں ڈوب گئیں، موٹرسائيکلیں بند ہوگئیں، فیروز پور روڈ پر موٹرسائیکل پھسل کر کھمبے سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں دو بھائی جاں بحق ہوگئے، چھت گرنے کے واقعات میں چار افراد زخمی ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث 99 فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
گوجرانوالا میں مسلسل تیسرے دن بھی بارش برسی، نکاسِ آب کے لیے لاہور سے مشینری طلب کرلی گئی، شکر گڑھ میں تیسرے روز بھی موسلادھار بارش ہوئی، نالہ بئیں اور بسنتر سے ملحقہ نشیبی دیہات میں پانی داخل ہوگیا۔
منڈی بہاء الدین میں بارش سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان اور چارے کی فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب دریائے چناب میں نچلے سے درمیانے درجے کا ریلا گزرنے کا خطرہ ہے، تریموں بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے لگی، سرگودھا میں طالب والا کے مقام پر اکتالیس دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔