سندھ صوبائی زکوٰۃ فنڈ اور ضلعی کمیٹیوں میں مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں مالی سال 2022-2024 کے لیے سندھ صوبائی زکوٰة فنڈ اور ضلعی زکوٰة کمیٹیوں میں 33 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا گیا ہے۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے سندھ صوبائی زکوٰة فنڈ اور ضلعی زکوٰة کمیٹیوں سے متعلق جاری آڈٹ رپورٹ کے مطابق ضلعی زکوٰةکمیٹیوں میں 24 کروڑ 40 لاکھ روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کو زکوٰۃ فنڈ سے 21 لاکھ روپے سے زائد کی غیر قانونی ادائیگیاں کی گئیں، اس کے علاوہ 7 کروڑ 23 لاکھ روپے کی دیگر آڈٹ مشاہدات بھی رپورٹ کیے گئے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سندھ بینک انتظامیہ نے 4,744 مستحقین کو اے ٹی ایم کارڈز فراہم نہیں کیے جس کی وجہ سے 3 کروڑ 89 لاکھ روپے کی رقم مستحقین تک نہ پہنچ سکی اور بینک کے پاس رہ گئی۔
مزید بتایا گیا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے مستحقین کو زکوٰۃ فنڈ سے غیر قانونی طور پر 2 کروڑ 80 لاکھ روپے کی ادائیگی کی گئی اور سندھ بینک کو تصدیقی چارجز کی مد میں 41 لاکھ روپے سے زائد کی ادائیگی بھی رپورٹ ہوئی اور 3 کروڑ 65 لاکھ روپے کے واجبات کی عدم وصولی کے 5 کیسز سامنے آئے ہیں۔
آڈیٹر جنرل نے زکوٰۃ فنڈ کی تقسیم میں شفافیت لانے اور نظام کو بہتر بنانے کے لیے فوری اصلاحات کی سفارش کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لاکھ روپے کی زکو ۃ فنڈ گیا ہے
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔