اگر بال جھڑرہے ہیں تو کیاکریں ؟ماہرین نے سستا ترین حل بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
اگر آپ کے بال حد سے زیادہ جھڑنے لگے ہیں تو شیمپو بدلنے کے بجائے سب سے پہلے اپنے پانی پینے کی مقدار پر توجہ دیں۔ پانی صرف زندگی کی بنیاد ہی نہیں بلکہ ہماری جلد، بالوں اور مجموعی صحت کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہے۔ اکثر ہم یہ تو جانتے ہیں کہ پانی اہم ہے، لیکن یہ نہیں جانتے کہ ہم روزانہ کتنا پانی پی رہے ہیں اور کیا وہ مقدار واقعی ہماری جسمانی ضروریات کو پورا کر رہی ہے یا نہیں۔
پانی کی کمی اور بالوں کا جھڑنا
پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) نہ صرف جلد کو متاثر کرتی ہے بلکہ یہ بالوں کے جھڑنے کی ایک اہم وجہ بھی ہو سکتی ہے۔ پانی کی ناکافی مقدار سے بال روکھے، کمزور اور بے جان ہو جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ پھٹے سِروں، بالوں کے ٹوٹنے اور یہاں تک کہ گنج پن کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ کیونکہ بالوں کی جڑیں کھوپڑی میں موجود ہوتی ہیں، جنہیں غذائی اجزاء اور نمی کی فراہمی خون کے ذریعے ہوتی ہے، اس لیے جب جسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے تو یہ عمل متاثر ہو جاتا ہے اور بالوں کو وہ ضروری غذائیت نہیں مل پاتی۔
روزانہ کتنا پانی پینا چاہیے؟
بالوں کو صحت مند رکھنے کے لیے ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ روزانہ کم از کم 7 سے 8 گلاس پانی ضرور پیا جائے۔ ہر بال کو اپنی نشوونما کے لیے تقریباً¼ لیٹر پانی درکار ہوتا ہے۔ اگر آپ کے بال معمول سے زیادہ جھڑنے لگیں، ان کے سِروں پر سفیدی یا خشکی نظر آئے، یا بال نازک محسوس ہوں تو یہ واضح علامات ہو سکتی ہیں کہ آپ کا جسم پانی کی کمی کا شکار ہے۔
پانی کے فوائد صرف بالوں کے لیے نہیں
پانی صرف بالوں کی صحت کے لیے نہیں بلکہ جلد، جِگر، گردے، نظامِ انہضام، دماغی کارکردگی اور توانائی کے لیے بھی بے حد اہم ہے۔ دن بھر کی سرگرمیوں، پسینے، پیشاب اور دیگر جسمانی افعال کے ذریعے ہم جسم سے پانی کھو دیتے ہیں۔ اگر اس کی بروقت تلافی نہ کی جائے تو تھکاوٹ، سر درد، خشک منہ، چکر آنا اور کمزوری جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
خوبصورت اور صحت مند بالوں کے لیے چند اہم نکات
روزانہ کم از کم 8 گلاس پانی پینے کو معمول بنائیں۔ پانی کے ساتھ ساتھ متوازن غذا، تیل لگانا، بالوں کے لیے مناسب ماسک اور شیمپو کا استعمال بھی کریں۔ پانی کو نظرانداز نہ کریں کیونکہ یہی خوبصورتی اور صحت کا سستا ترین راز ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پانی کی کمی بالوں کے کے لیے
پڑھیں:
بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
تصویر سوشل میڈیا۔پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔
لاہور ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث نناوے فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں میں کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے۔ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، بارشوں کے باعث 38 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ شہریوں سے گزارش ہے موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔