چین غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک مثالی سرمایہ کاری کی منزل رہے گا، چینی صدر
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
بیجنگ :چینی صدر شی جن پھنگ نے چائنا ڈنمارک چیمبر آف کامرس کے سربراہ کو ایک جوابی خط میں چائنا ڈنمارک چیمبر آف کامرس اور اس کے رکن اداروں کو چین اور ڈنمارک اور چین اور یورپ کے درمیان دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے اور باہمی تعاون کو گہرا کرنے میں نئی شراکت داری کرنے کی ترغیب دی۔جمعرات کے روز شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ آپ کے خط سے میں نے چین کے لیے آپ کے گہرے جذبات اور ڈنمارک کی چین میں موجود کمپنیوں کے چین کی ترقی پر اعتماد کو محسوس کیا، میں اس کو سراہتا ہوں۔ چین ماضی، حال، اور مستقبل میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک مثالی، محفوظ اور کامیاب سرمایہ کاری کی منزل رہا ہےاور رہے گا۔ چین پر اعتماد کرنا درحقیقت مستقبل پر اعتماد کرنا ہے، اور چین میں سرمایہ کاری کرنا درحقیقت مستقبل میں سرمایہ کاری کرنا ہے۔ امید ہے کہ چائنا ڈنمارک چیمبر آف کامرس اور اس کے رکن ادارے چین اور ڈنمارک ، نیز چین اور یورپ کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے رہیں گے، تاکہ چین اور ڈنمارک ، نیز چین اور یورپ کے درمیان باہمی تفاہم اور دوستی کو فروغ دیا جا سکے اور دونوں اطراف کے باہمی مفاداتی تعاون کو گہرا کیا جا سکے۔حال ہی میں چائنا ڈنمارک چیمبر آف کامرس کے سربراہ نے صدر شی جن پھنگ کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے ذاتی اور چیمبر کی طرف سے چین اور ڈنمارک کے درمیان سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ پر مبارکباد پیش کی اور چین کے ساتھ تعاون کو مزید گہرا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چائنا ڈنمارک چیمبر ا ف کامرس چین اور ڈنمارک سرمایہ کاری کے درمیان
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔