اسلا م آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 اگست2025ء)وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملکی معیشت مثبت سمت میں گامزن ہے، تمام اہم معاشی اشاریے بہتر ہو رہے ہیں اور کاروباری و صارفین کا اعتماد تاریخی سطح پر پہنچ چکا ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں الگ الگ تقاریب سے خطاب کرتے انہوں نے کہا کہ زرعی آمدنی کو ٹیکس نیٹ میں شامل کر دیا گیا ہے، آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کی ازسرِنو ترتیب اور توانائی شعبے کی اصلاحات کے نتیجے میں بجلی کی قیمتوں میں کمی آئی ہے اور آئندہ دنوں میں توانائی کے اخراجات میں مزید کمی متوقع ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ پالیسی ریٹ 23فیصد سے کم ہو کر 11فیصد پر آ گیا ہے اور مزید کمی کا امکان ہے،پاکستان سٹاک ایکسچینج تاریخ کی بلند ترین سطح 145,976پوائنٹس پر پہنچ چکی ہے جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کا واضح اظہار ہے جبکہ سی ای اوز کے اعتماد میں 84فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی مالیاتی اداروں اور ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی اصلاحات کو سراہا ہے،فچ اور ایک دوسری بین الاقوامی ایجنسی کی جانب سے ملکی ریٹنگ بہتر کی گئی ہے اور تیسری ایجنسی بھی جلد اپ گریڈ کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے سے برآمدات کے نئے مواقع کھلے ہیں اور اس سال کے آخر تک پانڈا بانڈ کے اجرا کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملکی قرضوں میں 41 فیصد اضافہ ایک چیلنج ہے تاہم ادائیگیوں کے ساتھ یہ دباؤ کم ہوگا۔ گزشتہ سال قرضوں کی لاگت میں ایک ہزار ارب روپے کی کمی آئی اور رواں سال بھی اتنی ہی بچت متوقع ہے۔

اخراجات میں کمی کے لیے رائٹ سائزنگ کی پالیسی اپنائی گئی ہے، 43 وزارتوں اور 400 سے زائد محکموں میں اصلاحات جاری ہیں، جبکہ سول اداروں میں پنشن اصلاحات کی جا چکی ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹیکس نظام میں موجود خامیوں کو دور کیا جا رہا ہے، ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن جاری ہے اور وزیراعظم شہباز شریف خود اصلاحاتی عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکسوں کا سارا بوجھ تنخواہ دار طبقے پر نہیں ڈالا جا سکتا، اس لیے ٹیکس نیٹ بڑھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نجکاری کے عمل کو تیز کر رہی ہے اور توانائی شعبے میں 78سال میں پہلی بار ٹیرف اصلاحات شروع کی گئی ہیں۔ توانائی کے نقصانات کم ہوئے ہیں اور بجلی کے نرخ مزید کم کرنے کے لیے ٹاسک فورس سرگرم عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیح حقیقت پسندانہ اور مشاورتی پالیسی سازی ہے۔ بلال کیانی کی سربراہی میں ماہانہ بنیادوں پر چیمبرز کے ساتھ ملاقاتیں ہوں گی تاکہ صنعتکاروں اور تاجروں کے تحفظات کا بروقت ازالہ کیا جا سکے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم سب ایک ہی قافلے کے مسافر ہیں اور منزل ایک ہے ، پاکستان کو ایک خوشحال، مضبوط اور ترقی یافتہ ملک بنانا۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انہوں نے کہا کہ ہیں اور کے ساتھ ہے اور

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد