حج سے محروم پاکستانی عازمین کیلئے وزارت مذہبی امور کی آخری کوشش، سعودی حکام کو درد بھرا خط لکھ دیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
حج سے محروم پاکستانی عازمین کیلئے وزارت مذہبی امور کی آخری کوشش، سعودی حکام کو درد بھرا خط لکھ دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 15 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)اس سال حج کی سعادت سے محروم نجی پاکستانی عازمین حج کو سعودی عرب بھجوانے کے لیے وزارت مذہبی امور نے آخری کوشش کی ہے۔رواں برس 67 ہزار سے زائد نجی عازمین کے رقم جمع کرانے کے باوجود سعودی عرب روانگی اور اس سال ادائیگی حج مشکل ہو گئی ہے۔ ان عازمین کو حج کے لیے سعودی عرب بھجوانے کے لیے وزارت مذہبی امور نے آخری کوشش کے طور پر سعودی حکام کو خط لکھ دیا ہے۔
وزارت مذہبی امور کی جانب سے سعودی حکام کو انگریزی اور عربی زبان میں خطوط لکھے گئے ہیں جن میں ان سے اپیل کی گئی ہے کہ اس سال مذکورہ نجی عازمین کو حج کی اجازت دی جائے، آئندہ قواعد پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔اس خط میں کہا گیا ہے کہ سروس پرو وائیڈر فیس کی عدم ادائیگی کے سبب 67 ہزار نجی عازمین حج سے محروم رہ گئے ہیں۔ ان میں بہت سے پاکستانی عازمین عمر رسیدہ اور شاید انہیں دوبارہ حج کا موقع نہ مل سکے۔ حج سے محروم عمر رسیدہ عازمین کا درد ناقابل بیان ہے۔
وزارت مذہبی امور کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عمر رسیدہ عازمین کی فریاد اور جذباتی التجائیں مسلسل ہم تک پہنچ رہی ہیں۔ عاجزانہ التجا ہے کہ منی میں باقی رہ جانے والی کوئی بھی جگہ ہمیں فراہم کر دی جائے۔خط میں کہا گیا ہے کہ 67 ہزار عازمین سے متعلق معاہدے کے مطلوبہ فنڈز سعودی عرب کے پاس موجود ہیں۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ آئندہ نجی شعبہ تمام ڈیڈ لائنز پر سختی سے عمل کرے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے بھارت کے نیو نارمل جیسے بیانات کو بے بنیاد قرار دیدیا سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے بھارت کے نیو نارمل جیسے بیانات کو بے بنیاد قرار دیدیا پیٹرولیم قیمتوں میں کمی کی سمری تیار لیکن آج پھر ہاتھ ہونے کا خدشہ پاکستان نے امریکا کو زیرو ٹیرف دو طرفہ تجارتی معاہدے کی پیشکش کردی وزیراعظم کی بھارت طیاروں کو تباہ کرنے والے پاک فضائیہ کے شاہینوں سے ملاقات پوری قوم اپنی بہادرافواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ملک و قوم کی خاطر کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے،چیئرمین سی ڈی... بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی، پلوامہ میں تین نوجوان شہید
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وزارت مذہبی امور کی پاکستانی عازمین سعودی حکام کو آخری کوشش
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں