لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی 2025ء ) عوام کیساتھ پھر ہاتھ ہو گیا، عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہونے کے باوجود پٹرول اور ڈیزل مہنگا کرنے کی تیاریاں، عوام سے 34 ارب روپے اضافی وصول کیے جائیں گے ۔ تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی 12 روپے فی لیٹر اضافے سے 90 روپے تک مقرر کرنے کی منظوری دے دی گئی، پہلے ہی پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل پر حکومت 78 روپے فی لیٹر ریکارڈ پیٹرولیم لیوی وصول کر رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے آئل ریفائنریوں اور مارکیٹنگ کمپنیوں کو مالی بحران سے نکالنے کیلئے گرینڈ پیکج تیار کیا ہے جس کے تحت ای سی سی نے پیٹرولیم لیوی 12 روپے فی لیٹر اضافے سے 90 روپے تک مقرر کرنے کی منظوری دیدی، جس کے تحت پیٹرولیم مصنوعات صارفین سے 34 ارب روپے اضافی وصول کیے جائیں گے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 1.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پیٹرولیم لیوی روپے فی لیٹر کی مد میں وصول کیے ماہ میں کرنے کی
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔