سینیٹ قائمہ کمیٹی نے کیپٹو پاورپلانٹس لیوی بل 2025 کی متفقہ طور پر منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے کیپٹو پاورپلانٹس لیوی بل 2025 کی متفقہ طور پر منظوری دے دی۔
سینیٹر انوشہ رحمان کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا، کمیٹی نے کیپٹو پاور پلانٹس لیوی بل 2025کی متفقہ طور پر منظوری دے دی۔
سیکریٹری پیٹرولیم مومن آغا نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت کیپٹو پاور پلانٹس کو بجلی کے گرڈ پر منتقل کرنا چاہتی ہے، اگر سارے صارفین بجلی استعمال کریں تو کیپسٹی پیمنٹس کو کم کیا جاسکے گ۔
اسیکریٹری پیٹرولیم کا کہنا ہے کہ حکومت نے 5 فیصد لیوی عائد کرنے کی تجویز دی ہے، اجلاس میں کٹیو پاور پلانٹس لیوی بل 2025 پر بریفنگ دیتے ہوئے ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ نے بتایا کہ گیس کے ذخائر میں مسلسل کمی ہورہی ہے، کیپٹیو کے 11 سو جب کہ انڈسٹری کے پچپن سو کنویکشن ہیں۔
اس پر سینٹر دلاور خان نے کہا کہ کیپٹیو پاور سے جو بجلی بنائی جائے گی، کیا وہ مرکزی گرڈ میں لے کر جائیں گے؟ کیپٹیو سے بنائی جانی والی بجلی کی قیمت کا تعین کیا جائے گا، کیپٹیو سے کیپسٹی چارجز مد میں کتنا فائدہ ہوگا؟ جس کے جواب میں سیکریٹری پیٹرولیم نے بتایا کہ کیپٹیو سے جو بجلی بنے گی وہ گرڈ نہیں جائے گی وہ بجلی فیکٹری میں استعمال ہوگی۔
کتنے فیصد استعمال ہونی ہے اس پر قیمت کا فیصلہ ہوگا انتیس سو فی ایم ایم بی ٹی یو قیمت ہوگی جبکہ ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ کیپٹیو کے ستر فیصد یونٹس سندھ میں ہیں جس پر سینٹر محسن عزیز نے کہا کہ اس بل کو میں مسترد کرتا ہوں، یہ انڈسٹری کے خلاف بل ہے دو ہزار اکیس میں حکومت کا مقصد آڈٹ کرنا تھاجن نے حکومت کی بات مان کر سرمایہ کاری کی اور کیپٹو پلانٹس لگائے انکا کیا قصور ہے۔
اس پرسینیٹر دلاور خان نے کہا کہ لیوی جب دس فیصد بڑھائی جائے گی تو کیا اندازہ ہے حکومت کا کہ کتنا فائدہ ہوگا حکومت کبھی نہیں چاہے گی کہ انڈسٹری بند ہوں۔
اجلاس میں موجود وزارت قانون کے حکام نے کہا کہ بل کے کلاز چار میں ترمیم کی گزارش ہے تفصیلی جائزہ کے بعد چیئر پرسن کمیٹی نے کہا کہہم اس بل کو متفقہ طور پر پاس کرکے ایوان کو بھیج رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پلانٹس لیوی بل متفقہ طور پر کیپٹو پاور نے کہا کہ
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔