خیبرپختونخوا: اسپیکر اور مشیر خزانہ آمنے سامنے، تلخی کی اصل وجہ کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
خیبر پختونخوا اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے ایک خصوصی اجلاس میں اسپیکر بابر سلیم سواتی اور مشیر خزانہ مزمل اسلم کے درمیان تلخی شدت اختیار کر گئی۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب کوہستان کرپشن اسکینڈل پر بحث کے دوران اسپیکر نے مزمل اسلم کو سوالات کا جواب دینے سے روک دیا۔
اجلاس کے دوران اپوزیشن رکن احمد کنڈی نے مشیر خزانہ پر سخت اعتراضات اٹھائے اور ان سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ جواب میں جب مزمل اسلم نے اپنی وضاحت دینے کی کوشش کی تو اسپیکر نے انہیں ٹوک دیا اور کہا کہ جب ہم پوچھیں گے تب بولیں، ابھی خاموش رہیں۔
مزمل اسلم کی جانب سے بات جاری رکھنے پر اسپیکر نے مزید سخت رویہ اپناتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو کچھ کہنا ہے تو باہر جا کر کہیں، یہاں وہی بولیں گے جو ہم پوچھیں۔ ورنہ مجھے اگلا قدم اٹھانا پڑے گا۔
مزید پڑھیں: پختونخوا حکومت میں تیمور جھگڑا کی جگہ مزمل اسلم کو شامل کیوں کیا گیا؟
یہ پہلا موقع نہیں جب دونوں آمنے سامنے آئے ہوں۔ اس سے قبل 5 مئی کو بھی پی اے سی اجلاس میں کوہستان اسکینڈل پر بحث کے دوران دونوں میں تلخ کلامی ہو چکی ہے۔
دراصل مسئلہ کیا ہے؟اندرونی ذرائع کے مطابق، موجودہ کشیدگی کی بنیادی وجہ کوہستان اسکینڈل نہیں بلکہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں کی گئی نئی بھرتیاں ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فنانس کمیٹی کے ایک حالیہ اجلاس میں اسپیکر نے ان بھرتیوں کی منظوری مانگی، جبکہ بھرتی کا عمل پہلے ہی مکمل کیا جا چکا تھا۔ مشیر خزانہ نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھرتیاں کس اتھارٹی سے منظور ہوئیں؟ اور کمیٹی سے پیشگی منظوری کیوں نہیں لی گئی؟
یہ اعتراض اسپیکر کو ناگوار گزرا، اور انہوں نے مشیر خزانہ کو اجلاس سے باہر جانے کا اشارہ دیا، جس پر مزمل اسلم میٹنگ چھوڑ کر چلے گئے۔ اس واقعے کے بعد سے دونوں کے درمیان سرد مہری میں شدت آ گئی ہے۔
مزید پڑھیں: وی ایکسکلیوسیو: ایس آئی ایف سی بننے سے اب تک کوئی خاص کامیابی نہیں ملی، مزمل اسلم
پارٹی اندرونی اختلافات اور احتساب کمیٹی کی کارروائیاسمبلی میں کی گئی 130 سے زائد نئی بھرتیوں پر تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اعظم سواتی نے پارٹی کی احتساب کمیٹی کو باقاعدہ شکایت کی۔ ذرائع کے مطابق، احتساب کمیٹی نے اسپیکر کو طلب کیا، لیکن اس معاملے پر کمیٹی کے اندر بھی اختلافات سامنے آئے۔ ایک رکن قاضی انور نے اسپیکر کو کلئیر کیا، جبکہ 2 اراکین نے مختلف موقف اپنایا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ واقعہ خیبر پختونخوا میں نئی حکومت کے ابتدائی دنوں میں اختیارات کی کشمکش، شفافیت کی کمی اور اندرونی گروپ بندی کی علامت ہے۔ اگر اس اختلاف کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو یہ حکومت کی ساکھ اور کارکردگی پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپیکر بابر سلیم سواتی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی خیبر پختونخوا مزمل اسلم مشیر خزانہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپیکر بابر سلیم سواتی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی خیبر پختونخوا خیبر پختونخوا اسپیکر نے
پڑھیں:
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔ بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی ویڈیو قرار دیا، لیکن جب تنقید کرنے والے خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک ادارے نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔ نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر تنقید کافی برھ گئی تو جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔ غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ شوہر کے مؤقف کی تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
بنگلہ دیشی میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم سے متعلق قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔ غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔
نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ ڈرائیور، دوسری کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا، ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔ نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔
پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی
اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
مزید :