راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2025ء) عمران خان کا کہنا ہے کہ عمران خان نے جنید اکبر کو پبلک اکاونٹس کمیٹی کا عہدہ رکھنے کی اجازت دے دی، جنید اکبر پر مجھے پورا اعتماد ہے، اگر وہ تنظیمی ذمہ داریوں پر فوکس رکھنے کے ساتھ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بھی چلا سکتے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔ تفصیلات کے مطابق اڈیالہ جیل میں قید بانی تحریک انصاف عمران خان کا پیغام سامنے آیا ہے۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ " پاکستانی قوم کو بیرونی اور اندرونی دونوں طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ چھبیسویں آئینی ترمیم نے ہمارے انصاف کے نظام کا جنازہ نکال دیا ہے اور ملک اس وقت مکمل ڈکٹیٹر شپ میں جا چکا ہے- سویلینز کا ملٹری ٹرائل قانونی قرار دینا اسی ترمیم کا نتیجہ ہے۔ ایوانوں میں اس ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والے تو صرف کٹھ پتلی تھے اور احکامات کی پاسداری کر رہے تھے۔

(جاری ہے)

دنیا کی کسی جمہوریت میں اپنے شہریوں کے ساتھ ایسا مذاق نہیں ہوتا کہ انہیں احتجاج کرنے پر ملٹری کورٹس کے حوالے کر دیا جائے۔ اس طرح کے فیصلوں سے پاکستان کی جگ ہنسائی ہوتی ہے۔ نو مئی کے واقعات میں اپنے بچوں کو سزائیں دینے کے بجائے توجہ ہندوستان سمیت دیگر اندرونی و بیرونی مسائل پر مرکوز ہونی چاہیے۔ یہ وقت نوجوانوں کو متحد کرنے کا ہے۔

جن نوجوانوں کو ملٹری کورٹس سے دس ، دس سال کی سزائیں دلوائی گئی ہیں ان کا جرم صرف احتجاج کرنا ہے۔ بارہا کہتا ہوں کہ نو مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوائی جائے تا کہ معلوم ہو سکے کہ اصل مجرمان کون ہیں اور سزائیں کن کو ملنی چاہئیں ۔ یوں کسی آرمی افسر کے کہنے پر قوم کے نوجوانوں کے مستقبل کو برباد کرنا ظلم ہے۔ چھبیسویں آئینی ترمیم کا دوسرا نتیجہ یہ ہے کہ ججز اب صرف ایک سرکاری ملازم کی حیثیت رکھتے ہیں اور کوئی آزادانہ فیصلہ نہیں لے سکتے۔

ججز کو ایک فرد واحد سب فیصلے لکھ کر دیتا ہے جو کہ نظام انصاف کی موت ہے۔ میرے خلاف جھوٹے اور بوگس مقدمات اسی لیے چل رہے ہیں کیونکہ عدلیہ آزاد نہیں ہے۔ القادر ٹرسٹ کیس سمیت میرے خلاف بنائے گئے تمام کیسز بوگس ہیں اس لیے مرضی کے ججز لانے کے باوجود میری اپیلیں مسلسل التوا میں رکھی جا رہی ہیں- جس دن میرے مقدمات میرٹ پر سنے گئے سب کا خاتمہ ہو جائے گا۔ میرا تمام پارٹی عہدیداران کے لیے واضح پیغام ہے کہ وہ تحریک چلانے پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔ میری پہلی ترجیح تحریک اور پارٹی کی تنظیمِ نو ہے۔ جنید اکبر پر مجھے پورا اعتماد ہے۔ اگر وہ تنظیمی ذمہ داریوں پر فوکس رکھنے کے ساتھ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بھی چلا سکتے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔".

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے جنید اکبر

پڑھیں:

آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔

حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
  • پی ٹی اے کی موبائل سمز سے متعلق اہم وارننگ
  • وزیراعظم کا لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دینے، کمانڈر نیشنل سٹرٹیجک کمانڈ مقرر کرنے کا اعلان
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن