عمران خان کو ڈیل کی پیشکش سے متعلق ترجمان پی ٹی آئی کا بیان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
پشاور:
ترجمان پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں مگر ڈیل کی باتیں درست نہیں ہیں۔
ہائی کورٹ میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ کچھ اخباروں میں اسٹوری لگی ہے کہ بانی کو پیش کش ہوئی ہے اور وہ مان گئے ہیں۔ یہ خبر غلط ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان راضی ہوئے ہیں اور نہ یہ بات ہوئی ہے جو اخبارات میں چل رہی ہے۔ عمران خان مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں اور ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ جوڈیشل کمیشن بھی نہ بنائیں اور ہم مان جائیں۔
شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ اگر کوئی خیبر پختونخوا میں کرپشن کے پیسے پی ٹی آئی دھرنوں اور 9 مئی میں استعمال کرنے کی بات کر رہا ہے تو کے پی کے میں کسی نمائندے سے پوچھ لیں تو اچھا ہوگا۔ یہ مزاحیہ الزام لگانا پی ٹی آئی پر ایک مذاق ہے، پہلے کرپشن ثابت تو کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی
پڑھیں:
اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں۔
اپنے تازہ بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے جس طرزِ عمل پر عمل پیرا ہے، اسے مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں سفارتی حل اور معاہدہ ہی آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے تعطل سے متعلق خبروں کو بھی مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض اطلاعات کے برعکس دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور بات چیت مسلسل جاری ہے اور مذاکرات کا عمل رکا نہیں ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی گفتگو مختلف معاملات پر جاری ہے، تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مذاکرات کا حتمی نتیجہ کیا نکلے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت کوئی بھی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ یہ مذاکرات کس سمت جائیں گے یا ان کا اختتام کس نوعیت کے معاہدے پر ہوگا، لیکن دونوں فریقوں کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔
ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے، جوہری پروگرام، علاقائی کشیدگی اور اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
عالمی مبصرین کی نظریں بھی دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی رابطوں پر مرکوز ہیں کیونکہ کسی بھی ممکنہ پیش رفت کے مشرق وسطیٰ اور عالمی سیاست پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔