اسلام آباد:

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے 26 نومبر احتجاج کیس میں 2 مقدمات ٹرانسفر کرنے کی درخواست مسترد کردی۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ناصر جاوید رانا نے پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے دائر کی گئی مقدمات ٹرانسفر کرنے کی درخواستوں پر سماعت کی۔

پی ٹی آئی کارکنان کیخلاف 2 مقدمات جوڈیشل مجسٹریٹ احمد شہزاد گوندل کی عدالت میں زیر سماعت ہیں۔

مدعی مقدمہ کے مطابق متعلقہ جج غیر ضروری جلد بازی اور قانونی معاملات کا مشاہدہ کئے بغیر کیس چلا رہے ہیں۔

 فیصلہ کے مطابق  مدعی مقدمہ کے وکلاء اپنا الزام ثابت کرنے میں ناکام رہے، عدالت کے اندر اسلام آباد ہائی کورٹ کا خط بھی پیش کیا گیا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے متعلقہ دفعات کے تحت درج مقدمات کو فاسٹ ٹریک پر چلانے کی ڈائریکشن دے رکھی ہے۔

سرکار کی جانب سے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹرز بیرسٹر فہد ارسلان چوہدری، محمدعثمان رانا ایڈووکیٹ، بیرسٹر منصور اعظم عدالت میں پیش ہوئے، پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے علی بخاری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

 پی ٹی آئی کارکنان کیخلاف 2 مقدمات پیس فل اسمبلی اینڈ پبلک آڈر ایکٹ کے تحت تھانہ رمنا میں درج ہیں، جوڈیشل مجسٹریٹ احمد شہزاد گوندل متعلقہ مقدمات میں 19 مئی کو سماعت کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پی ٹی آئی کارکنان کی اسلام آباد

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات