کرسٹیانو رونالڈو مسلسل تیسرے کون سا اعزاز اپنے نام کیا؟
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
پیسہ کمانے کی دوڑ میں کرسٹیانو رونالڈو نے تمام ایتھلیٹس کو پیچھے چھوڑ دیا، پرتگالی فٹبالر ایک سال میں 27 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کمائے۔
یہ بھی پڑھیں: کرسٹیانو رونالڈو: سال 2024 کے سب سے مہنگے اتھلیٹ نے کتنے ملین ڈالر کمائے؟
فوربز کی جانب سے 2025 میں سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے ایتھلیٹس کی فہرست جاری کردی گئی ہے ۔ پرتگالی فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو سب سے زیادہ کمائی کرنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے، جنہوں نے گزشتہ ایک سال میں 27 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کمائے۔
کرسٹیانو رونالڈو نے اپنی آمدنی میں 15 ملین ڈالرز کا اضافہ فٹبال گراؤنڈ سے باہر برانڈ انڈورسمینٹس اور سوشل میڈیا پر فالوورز کی اچھی تعداد ہونے کی وجہ سے ملنے والی اسپانسرشپس کے ذریعے کیا۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی شہرت یافتہ فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے نیا ریکارڈ بنا ڈالا
فوربز میگزین کی فہرست میں امریکن باسکٹ بال پلیئر اسٹیفن کری نے 15 کروڑ 56 لاکھ ڈالرز کمائے اور وہ اس فہرست میں دوسرے نمبر پر ہیں، باکسر ٹائیس فیوری تیسرے، باکسر ٹائیسن فیوری 146 ملین ڈالرز کے ساتھ تیسرے، ڈاک پریسکاٹ 137 ملین ڈالرز کے ساتھ چوتھے جبکہ ارجنٹینا کے لیونل میسی 135 ملین ڈالرز کے ساتھ پانچویں نمبر پر آگئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ایتھلیٹ پرتگال رونالڈو کمائی معاوضہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایتھلیٹ پرتگال رونالڈو معاوضہ کرسٹیانو رونالڈو ملین ڈالرز
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔