ڈی ای پی اے میں چین کی شمولیت سے متعلق مذاکرات میں پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
ڈی ای پی اے میں چین کی شمولیت سے متعلق مذاکرات میں پیش رفت WhatsAppFacebookTwitter 0 16 May, 2025 سب نیوز
بیجنگ : چین کی وزارت تجارت کے تحت چین کے بین الاقوامی تجارتی مذاکرات کار اور نائب وزیر تجارت لی چھنگ گانگ نے جنوبی کوریا کے صوبے جیجو میں ایپک تجارتی وزراء کے اجلاس میں شرکت کے دوران چین اور ڈیجیٹل اکانومی پارٹنرشپ ایگریمنٹ (ڈی ای پی اے) کے اراکین کے درمیان وزارتی اجلاس میں بھی شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ ڈی ای پی اے ورکنگ گروپ میں شامل ہونے کے بعد سے تنظیم کے اراکین کے ساتھ چین کے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔ چین اعلیٰ معیار کے کھلے پن کو فروغ دینے، بین الاقوامی اعلیٰ معیاری اقتصادی اور تجارتی قواعد کے ساتھ ہم آہنگ ہونے اور قواعد پر مبنی بین الاقوامی اقتصادی اور تجارتی نظم و نسق کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چین توقع رکھتا ہے کہ ڈی ای پی اے کے اراکین کے ساتھ اختراعی انداز میں مشترکہ طور پر مذاکراتی عمل کو تیز کرتے ہوئے مذاکرات میں مزید ٹھوس پیش رفت کی جائے۔ ڈی ای پی اے کے اراکین نے ورکنگ گروپ میں چین کی شمولیت کے بعد سے حاصل شدہ پیش رفت کو سراہا اورکہا کہ وہ چین کے ساتھ مل کر تمام سطحوں پر مشاورت کو فعال طور پر آگے بڑھاتے ہوئے مذاکرات میں مزید پیش رفت کے حصول کے منتظر ہیں۔
یاد رہے کہ چین نے یکم نومبر 2021 کو ڈی ای پی اے میں شمولیت کی درخواست جمع کروائی تھی ۔ 18 اگست 2022 کو ڈی ای پی اے مشترکہ کمیٹی کے فیصلے کے مطابق، چین کی شمولیت سے متعلق ورکنگ گروپ قائم ہوا اور چین کی شمولیت سے متعلق مذاکرات کا آغاز ہوا ۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرخصوصی افراد مشکلات پر قابو پاکر اپنے خوابوں کی جستجو جاری رکھیں ، چینی صدر خصوصی افراد مشکلات پر قابو پاکر اپنے خوابوں کی جستجو جاری رکھیں ، چینی صدر چین-فرانس اعلیٰ سطح اقتصادی و مالیاتی ڈائیلاگ کے دسویں اجلاس کا انعقاد بیلٹ اینڈ روڈ “بین الاقوامی تعاون پراعلیٰ سطح فورم کی مشاورتی کمیٹی کے اجلاس کا انعقاد پیٹرولیم قیمتوں میں کمی کی سمری تیار لیکن آج پھر ہاتھ ہونے کا خدشہ پاکستان نے امریکا کو زیرو ٹیرف دو طرفہ تجارتی معاہدے کی پیشکش کردی مار-اے-لاگو معاہدے “کی غلط فہمی سے امریکی نجات کا راستہ کہاں ہے ؟Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چین کی شمولیت سے متعلق بین الاقوامی مذاکرات میں ڈی ای پی اے کے اراکین کے ساتھ پیش رفت
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔