قومی اسمبلی نے انکم ٹیکس ترمیمی بل 2024 سمیت متعدد اہم بلز منظور کرلیے
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
اسلام آباد: قومی اسمبلی نے انکم ٹیکس ترمیمی بل 2024 کثرت رائے سے منظور کر لیا۔ بل وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایوان میں پیش کیا، جب کہ اپوزیشن نے اس کی مخالفت کی۔ اجلاس کے دوران متعدد دیگر اہم قانون سازی بھی کی گئی۔
قومی اسمبلی نے تحویل ملزمان ترمیمی بل 2025 اور پاکستان شہریت بل 2024 کو بھی منظوری دے دی۔ دونوں بل وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پیش کیے۔ پاکستان شہریت بل کے تحت شہریت ایکٹ کی سیکشن 14A اور سیکشن 4 میں ترامیم کی گئی ہیں۔
اجلاس کے دوران ایف بی آئی ایس ای ترمیمی بل 2024 بھی ایوان سے منظور کیا گیا۔ بل فرح ناز اکبر نے پیش کیا، جب کہ وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے شق 3، 4 اور 6 میں ترامیم تجویز کیں جو منظور کر لی گئیں۔
حکومت کی جانب سے سپلیمنٹری ایجنڈا بھی ایوان میں پیش کیا گیا، جس کے تحت ٹریڈ آرگنائزیشن ترمیمی بل 2025 علی موسیٰ گیلانی نے پیش کیا، جسے منظور کر لیا گیا۔
مزید برآں پیپلز پارٹی کی شرمیلا فاروقی کی جانب سے پیش کیا گیا چائلڈ میرج پر پابندی سے متعلق بل بھی قومی اسمبلی سے منظور ہوگیا۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی پیش کیا
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔