عید سے قبل مہنگائی کا جن بے قابو ،غریب عوام کی کمر ٹوٹ گئی
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
عید سے قبل فیصل آباد سمیت پنجاب بھر میں مہنگائی کا جن پھر سے بے قابو، چکن کی قیمت 700 روپے ہو گئی، چینی بھی مزید مہنگی کر دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق فیصل آباد سمیت پنجاب بھر میں عید الاضحٰی کی آمد سے قبل زندہ چکن اور مرغی کے گوشت کی قیمتوں کو پر لگ گئے ہیں۔
پرچون سطح پر زندہ برائلر مرغی کی قیمت مزید3روپے اضافے سے 411روپے فی کلو جبکہ فارمی انڈوں کی قیمت مزید ایک روپے اضافے سے 281روپے فی درجن کی سطح پر پہنچ گئی۔اوپن مارکیٹ میں مختلف مقامات میں برائلر گوشت کی مختلف قیمتیں وصول کی جارہی ہیں۔ شہر کے مختلف مقامات پر برائلر گوشت 680سے 700روپے کلو فروخت کیا جارہا ہے۔ دوسری جانب فیصل آباد سمیت صوبے بھر میں چینی کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ کر دیا گیا۔
پاکستان کے تیسرے بڑے شہر فیصل آباد میں چینی کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس پرکریانہ ایسوسی ایشن نے شوگر ملز اور بیورو کریسی کو اس کا ذمہ دار قرار دیدیا۔اوپن مارکیٹ میں چینی کی قیمت 164 روپے فی کلو سے بڑھ کر 175 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔مرکزی کریانہ ایسوسی ایشن نے اس صورتحال کی ذمہ داری براہِ راست شوگر ملز مالکان اور متعلقہ بیوروکریسی پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فروری میں چینی کی قیمت 125 روپے فی کلو تھی لیکن
ایکسپورٹ کی اجازت ملنے کے بعد قیمتوں کو پر لگ گئے۔
ایسوسی ایشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہھ حکومت نے زائد اسٹاک نہ ہونے کے باوجود چینی کی برآمد کی اجازت دی جس کا فائدہ صرف مخصوص عناصر نے اٹھایا۔ شوگر ملز مالکان بلاجواز ہمیں قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں جبکہ اصل کنٹرول اور ذخائر کا اختیار انہی کے پاس ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: میں چینی کی قیمت روپے فی کلو فیصل ا باد
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔