یوم نکبہ پر فلسطین فاؤنڈیشن کا احتجاج، سیاسی و مذہبی اکابرین شریک
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
اسلام ٹائمز: احتجاج سے خطاب میں مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر اسرائیلی ڈرون ہندوستان کے ذریعہ پاکستان میں حملہ آور ہو سکتے ہیں تو ضرورت اس امر کی ہے کہ فلسطینیوں کی ہر ممکنہ سیاسی، اخلاقی اور سفارتی مدد کے ساتھ مسلح مدد بھی کی جائے تو کہ پاکستان کی نظریاتی دشمن ریاست غاصب اسرائیل کو نابود کیا جائے۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ ملی یکجہتی کونسل سندھ اور فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام کراچی پریس کلب کے باہر یوم نکبہ کے موقع پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے میں سینکڑوں شہریوں نے شرکت کی اور فلسطین پر غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے ناجائز قیام کے 77 سال مکمل ہونے پر احتجاج کیا۔ مظاہرے کی قیادت ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر اسداللہ بھٹو اور فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم نے کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر فلسطینیوں کے حق واپسی کی حمایت سمیت اسرائیل ایک ناجائز ریاست کے نعرے درج تھے جبکہ فلسطینیوں کے حق واپسی کی حمایت کے لئے مظاہرین نے ہاتھوں میں چابیوں کے علامتی نشان بھی اٹھا رکھے تھے۔ احتجاجی مظاہرے سے سابق رکن قومی اسمبلی محمد حسین محنتی، علامہ قاضی احمد نورانی، احمد ندیم اعوان، علامہ باقر زیدی، علامہ مرتضی رحمانی، اسرار عباسی، یونس بونیری،سابق رکن سندھ اسمبلی میجر (ر) قمر عباس، علامہ جعفر سبحانی، پاسٹر امانوئیل، علامہ امین انصاری، مولانا محمد قاسم اور دیگر نے خطاب کیا۔ احتجاجی مظاہرے میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین میں علامہ صادق جعفری، علامہ مبشر حسن، ثقلین اسحاق، عبد العظیم، علامہ بدر الحسنین، علامہ عقیل انجم، ناصر رضوان ایڈوکیٹ ، علامہ شوکت مغل، علامہ عبد الغفار، علامہ عبد الوحید یونس، علامہ حیات عباس، علامہ ملک عباس، علامہ سجاد حیدر سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔
بی جے پی حکومت پر سنگین الزاماتمنگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔
میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائیسابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔
امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواستممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘ نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔
ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
مجھے سب کچھ معلوم ہےاپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔
نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔
مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار