قائم مقام امریکی سفیر کی ملاقات، ٹرمپ نے خطے کو ہولناک تباہی سے بچا کر انسانیت کی خدمت کی: محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی سے امریکہ کی قائم مقام سفیر نیٹلی بیکر نے اہم ملاقات کی۔ جس میں باہمی دلچسپی کے امور، پاک امریکہ تعلقات اور دوطرفہ تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں پاکستان بھارت جنگ بندی کے بعد کی صورتحال پر بھی بات چیت کی گئی۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان بھارت جنگ بندی میں کلیدی کردار پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی سفیر کا شکریہ ادا کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان سیز فائر کا کریڈٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جاتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے کو ہولناک تباہی سے بچا کر انسانیت کی خدمت کی ہے۔ محسن نقوی نے مزید کہا کہ پاکستان کی قیادت کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مثبت خیالات کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کے ساتھ باہمی تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتے ہیں۔ قائم مقام امریکی سفیر نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں۔ امریکہ مختلف شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ محسن نقوی
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔