راولپنڈی:

سانحہ 9 مئی اور جی ایچ کیو حملے سمیت 13 سنگین مقدمات کی سماعت آج 118 روز کے وقفے کے بعد دوبارہ اڈیالہ جیل میں ہوگی۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج امجد علی شاہ مقدمات کی سماعت کریں گے جبکہ جیل کے اندر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق آج صبح 8 بجے کچہری عدالت میں ابتدائی سماعت متوقع ہے، جس کے بعد دوپہر کو اڈیالہ جیل میں جیل ٹرائل شروع کیا جائے گا۔ عدالت نے وکلاء، ملزمان اور گواہوں کو اڈیالہ جیل میں پیش ہونے کا حکم جاری کیا ہے۔

جی ایچ کیو حملہ کیس میں دو سرکاری گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں گے۔ مقدمے میں گیٹ 4، آرمی میوزیم اور میٹرو اسٹیشن سمیت حساس عمارتوں کو نذر آتش کرنے کے الزامات شامل ہیں۔ پراسیکیوٹر کے مطابق ان کیسز میں فرد جرم عائد کی جائے گی جبکہ باقی 12 مقدمات میں چالان کی نقول تقسیم کی جائیں گی۔

سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو کوٹ لکھپت جیل سے طلبی کے نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ غیر حاضر گواہ مجسٹریٹ مجتبیٰ الحسن اور تفتیشی افسر سب انسپکٹر ریاض کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔

آج مجموعی طور پر 1290 ملزمان عدالت میں پیش ہوں گے جن میں پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین، شیخ رشید، عمر ایوب، شبلی فراز اور شیریں مزاری شامل ہیں۔ جیل ٹرائل آخری بار 25 فروری کو ہوا تھا۔

وکیل صفائی فیصل ملک ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ اگر سرکاری گواہان پیش نہ ہوئے تو جیل ٹرائل ممکن نہیں ہوگا۔ جی ایچ کیو کیس میں مجموعی طور پر 119 گواہان کی فہرست ہے جن میں سے اب تک 25 کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جی ایچ کیو

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری