راولپنڈی: جی ایچ کیو حملہ سمیت سانحہ 9 مئی کے 13 کیسز کی سماعت آج ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
راولپنڈی:
سانحہ 9 مئی اور جی ایچ کیو حملے سمیت 13 سنگین مقدمات کی سماعت آج 118 روز کے وقفے کے بعد دوبارہ اڈیالہ جیل میں ہوگی۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج امجد علی شاہ مقدمات کی سماعت کریں گے جبکہ جیل کے اندر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق آج صبح 8 بجے کچہری عدالت میں ابتدائی سماعت متوقع ہے، جس کے بعد دوپہر کو اڈیالہ جیل میں جیل ٹرائل شروع کیا جائے گا۔ عدالت نے وکلاء، ملزمان اور گواہوں کو اڈیالہ جیل میں پیش ہونے کا حکم جاری کیا ہے۔
جی ایچ کیو حملہ کیس میں دو سرکاری گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں گے۔ مقدمے میں گیٹ 4، آرمی میوزیم اور میٹرو اسٹیشن سمیت حساس عمارتوں کو نذر آتش کرنے کے الزامات شامل ہیں۔ پراسیکیوٹر کے مطابق ان کیسز میں فرد جرم عائد کی جائے گی جبکہ باقی 12 مقدمات میں چالان کی نقول تقسیم کی جائیں گی۔
سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو کوٹ لکھپت جیل سے طلبی کے نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ غیر حاضر گواہ مجسٹریٹ مجتبیٰ الحسن اور تفتیشی افسر سب انسپکٹر ریاض کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔
آج مجموعی طور پر 1290 ملزمان عدالت میں پیش ہوں گے جن میں پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین، شیخ رشید، عمر ایوب، شبلی فراز اور شیریں مزاری شامل ہیں۔ جیل ٹرائل آخری بار 25 فروری کو ہوا تھا۔
وکیل صفائی فیصل ملک ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ اگر سرکاری گواہان پیش نہ ہوئے تو جیل ٹرائل ممکن نہیں ہوگا۔ جی ایچ کیو کیس میں مجموعی طور پر 119 گواہان کی فہرست ہے جن میں سے اب تک 25 کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جی ایچ کیو
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔