نور بخاری کے ہاں ’رحمت‘ کا نزول آمد، نومولود کا نام کیا رکھا؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
سابق پاکستانی اسٹار نور بخاری کے ہاں بیٹی کی ولادت ہوئی ہے، نومولود کا نام دعا زہرہ تجویز کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:’میری قبر کا حساب دینا ہے تو بولیں ورنہ خاموش رہیں‘ نور بخاری کا ناقدین کو جواب
اپنے انسٹاگرام ہینڈل پر نور نے اپنی بیٹی کی پیدائش کی خبر نعمتوں کے بیان سے متعلق قرآنی آیت کے ساتھ شیئر کی۔
انسٹاگرام پر شیئر کی جانے والی دلکش تصویر میں ان کی نومولود بیٹی کا ننھا ہاتھ اس کی انگلی پکڑے ہوئے ہے۔
انہوں آیت قرآنی کے علاوہ اس تصویر کے ساتھ مزید لکھا ہے کہ اللہ نے ہمیں خوبصورت بیٹی دعا زہرہ سے نوازا ہے، اللہ اسے نظر بد سے محفوظ رکھے، اللہ میری دعا کو اپنی دعاؤں میں رکھے۔
یاد رہے کہ نور بخاری پہلے ہی 3 بچوں، 2 بیٹیوں اور ایک بیٹے محمد علی رضا کی ماں ہیں۔
پاکستانی شوبز شخصیت نور بخاری نے 2020 میں اپنے سابق شوہر عون چوہدری کے ساتھ دوبارہ شادی کی تھی۔
نور بخاری کو اپنی ذاتی اور پیشہ وارانہ زندگی میں کئی اتار چڑھاؤ کا سامنا رہا، بعد ازاں انہوں نے اپنی زندگی اسلامی اقدار کے مطابق گزارنے کے لیے شوبز کی دنیا کو خیرباد کہہ دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
افغان طالبان رجیم کی مرکزی قیادت اور بدخشاں کے مقامی کمانڈروں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔
طالبان رجیم کے خلاف بغاوت کے اشارے ملنے پر ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے نیا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ بدخشاں کے معدنی وسائل پر لڑائی اور عوامی بغاوت کے بعد امیر ہبت اللہ نے حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک سخت حکم نامہ جاری کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں کے ناراض طالبان کمانڈروں اور حکام کے اثاثوں کی تفتیش کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد مقرر کردیاگیا ہے۔ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ کا حکم نہ ماننے والے مقامی کمانڈروں کو فوراً گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بدخشاں میں جاری عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی اندرونی بغاوت کو دبانے کے لیے خصوصی فوجی دستہ بھی تعینات کر دیاگیا ہے۔ قندھار گروپ نے بدخشاں گروپ کے ناراض طالبان رہنماؤں پر دباو ڈالنے کے لیے گرفتاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ اس دوران مقامی طالبان کمانڈر موسیٰ کاکے اور سابق مائنز ڈائریکٹر اسلام الدین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔
عالمی ماہرین کے مطابق بدخشاں میں جاری لڑائی افغان طالبان کے اندر گہرے ہوتے ہوئے نسلی اور سیاسی اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔ طالبان رجیم کیخلاف ملک کے اندر اور باہر شروع ہونے والی نئی تحریکیں،ان کے مکمل کنٹرول اور عوامی حمایت کے جھوٹے دعووں کی پول کھول رہی ہیں۔