آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہائی بلڈ پریشر کا عالمی دن منایا جارہا ہے
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
آج 17 مئی 2025 کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہائی بلڈ پریشر (hypertension) کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس سال کا موضوع ہے: "اپنا بلڈ پریشر درست طریقے سے ناپیں، اسے قابو میں رکھیں، اور لمبی زندگی گزاریں!"۔
ہائی بلڈ پریشر کے عالمی دن کا مقصد ہائی بلڈ پریشر کی بروقت تشخیص اور مؤثر کنٹرول کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔
ہائی بلڈ پریشر کو اکثر "خاموش قاتل" کہا جاتا ہے کیونکہ یہ بغیر کسی واضح علامات کے دل، دماغ، گردوں اور دیگر اعضاء کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، دنیا بھر میں 1.
پاکستان میں ہائی بلڈ پریشر ایک سنگین مسئلہ ہے، جہاں لاکھوں افراد اس بیماری کا شکار ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق، نوجوانوں میں بھی ہائی بلڈ پریشر کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو کہ طرزِ زندگی میں تبدیلیوں، ذہنی دباؤ، اور غیر صحت بخش خوراک کا نتیجہ ہے ۔
بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے کیلئے ماہرین درج ذیل اقدامات کی تجویز دیتے ہیں:
صحت مند وزن برقرار رکھیں: جسمانی وزن کو مناسب حد میں رکھنا دل پر دباؤ کم کرتا ہے۔ متوازن غذا اپنائیں: پھل، سبزیاں، کم چکنائی والی ڈیری مصنوعات، اور کم نمک والی غذا کا استعمال کریں۔ روزانہ ورزش کریں: روزانہ کم از کم 30 منٹ کی جسمانی سرگرمی بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں مددگار ہے۔ تمباکو نوشی اور الکحل سے پرہیز کریں: یہ دونوں عوامل بلڈ پریشر کو بڑھا سکتے ہیں۔ ذہنی دباؤ کو کم کریں: یوگا، گہری سانسیں، اور مراقبہ جیسے طریقے ذہنی سکون فراہم کرتے ہیں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہائی بلڈ پریشر بلڈ پریشر کو
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں