عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانہ کیس کی سماعت، وزیراعظم بذریعہ ویڈیو لنک پیش
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
لاہور کی سیشن عدالت میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کے کیس کی سماعت ہوئی جس میں مدعی وزیر اعظم شہباز شریف بذریعہ ویڈیو لنک پیش ہوئے۔
کیس کی سماعت ایڈشنل سیشن جج یلماز غنی نے کی۔
دوران سماعت عمران خان کے وکیل نے شہباز شریف سے سوال کیا کہ کیا اس وقت آپ کے پاس ہرجانے کے دعوے کی کاپی موجود ہے؟ اس پر شہباز شریف نے کہا کہ اس وقت میرے پاس ہرجانے کے کیس کی کاپی موجود نہیں مجھے وقت دیں میں بذریعہ واٹس ایپ منگواتا ہوں۔
یہ بھی پڑھیے: عمران خان کیخلاف وزیراعظم شہباز شریف کے 10 ارب ہرجانہ کیس کی سماعت، وزیراعظم ویڈیو لنک کے ذریعے پیش
عدالت نے شہباز شریف کی درخواست پر سماعت میں چند منٹ کا وقفہ کیا۔
اس کے بعد عمران خان کے وکیل نے کچھ سوال اٹھائے تاہم شہبازشریف کے وکیل نے کہا کہ عمران خان کے وکیل نے جو سوالات اٹھائے ہیں، انہیں صرف حتمی بحث کے وقت اٹھایا جا سکتا ہے، ضابطہ دیوانی کے تحت حق دفاع ختم ہو تو جوابِ دعویٰ بھی ختم تصور ہوگا۔
عدالت نے دونوں فریقین کو سننے کے بعد کیس کی سماعت 24 مئی تک ملتوی کر دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
عمران خان مقدمہ ہتک عزت ہرجانہ وزیراعظم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ہتک عزت عمران خان کے کیس کی سماعت شہباز شریف کے وکیل نے
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔