شہباز شریف کے بانیٔ پی ٹی آئی کیخلاف 10 ارب ہر جانے کے دعوے کی سماعت
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
---فائل فوٹوز
لاہور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج نے وزیر اعظم شہباز شریف کے بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف 10 ارب ہرجانہ کے دعوے کی سماعت کی۔
وزیر اعظم شہباز شریف بذریعہ ویڈیو لنک عدالت میں پیش ہوئے۔
بانیٔ پی ٹی آئی کے وکیل نے شہباز شریف سے سوال کیا کہ کیا اس وقت آپ کے سامنے ہرجانے کے دعوے کی کاپی موجود ہے؟ اس پر شہباز شریف نے کہا کہ جی نہیں، اس وقت میرے پاس ہرجانے کے کیس کی کاپی موجود نہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے عدالت سے استدعا کی کہ تھوڑی مہلت دیں، میرے وکلاء واٹس ایپ سے دعوے کی کاپی بھجوا رہے ہیں۔ شہباز شریف کی استدعا پر عدالتی کارروائی میں وقفہ کردیا گیا۔
یاد رہے کہ شہباز شریف نے عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شہباز شریف دعوے کی
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں