پارلیمنٹ نے پاک بھارت جنگ میں مثبت اور توانا کردار ادا کیا ہے، نواز شریف
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
لاہور (نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پاک بھارت جنگ میں ہماری بہادر مسلح افواج نے انتہائی پیشہ وارانہ مہارت اور بھرپور عزم سے سرزمین وطن کا دفاع کیا، اس حوالے سے پاکستان کی پارلیمنٹ نے بھی نہایت مثبت اور توانا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے لیے ہر قسم کی سیاسی تقسیم بھلا کر ایک آواز میں بولنا خوش آئند اقدام ہے۔ عوام کے نمائندوں نے 24 کروڑ عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے اپنی بہادر مسلح افواج کا حوصلہ بڑھایا۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے ان خیالات کا اظہار سینٹ میں پارلیمانی پارٹی لیڈر اور قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے چیئرمین سینیٹر عرفان صدیقی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے آج رائیونڈ میں ان سے ملاقات کی۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ اس فتح پر ہم اللہ تعالیٰ کا بے پایاں شکر ادا کرتے ہیں جس نے ہمیں اس امتحان میں سرخرو کیا۔ سابق وزیراعظم نے پاکستانی میڈیا کو بھی خراج تحسین پیش کیا جس نے سچ پر مبنی بیانیہ کو دنیا کے سامنے رکھا اور دشمن کے جھوٹ کو پوری قوت سے بے نقاب کیا۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے صدر مسلم لیگ (ن) کو پارلیمانی پارٹی کی کارکردگی کے حوالے سے رپورٹ پیش کی۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔