آپریشن سندور میں ہماری فضائیہ نے کتنے طیارے کھوئے، راہل گاندھی کا سوال
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
حزب اختلاف کی جماعت کانگریس مودی حکومت پر کئی سوالات اٹھا رہی ہے جس میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی میں امریکہ کی شمولیت بھی شامل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی پارلیمنٹ میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت پر "آپریشن سندور" سے پہلے پاکستان کو مبینہ طور پر مطلع کرنے کا الزام لگایا اور اسے جرم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اعتراف کیا ہے کہ حکومت نے پاکستان کو مطلع کیا تھا۔ رائے بریلی کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے ٹوئٹر پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ہمارے حملے کے آغاز میں پاکستان کو اطلاع دینا جرم تھا، وزیر خارجہ نے کھلے عام اعتراف کیا کہ ہندوستانی حکومت نے یہ کیا۔ راہل گاندھی نے اس معاملے پر برسر اقتدار حکومت سے بھی سوال کیا۔
کانگریس لیڈر نے پوچھا "اس کی اجازت کس نے دی، اس کے نتیجے میں ہماری فضائیہ کے کتنے طیارے ضائع ہوئے"۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ساتھ ایک ویڈیو بھی شیئر کیا، جس میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر آپریشن سندور کا ذکر کر رہے ہیں۔ ویڈیو میں جے شنکر یہ کہتے ہوئے نظر آ رہے ہیں "آپریشن کے آغاز میں، ہم نے پاکستان کو پیغام بھیجا کہ ہم دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کر رہے ہیں، ہم فوج پر حملہ نہیں کر رہے"۔ انہوں نے کہا کہ اس لئے فوج کے پاس اختیار ہے کہ وہ اس عمل میں مداخلت نہ کرے اور ایک طرف کھڑا ہو۔
قابل ذکر ہے کہ حزب اختلاف کی جماعت کانگریس مودی حکومت پر کئی سوالات اٹھا رہی ہے جس میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی میں امریکہ کی شمولیت بھی شامل ہے۔ کانگریس پارٹی 25 سے 30 مئی کے درمیان نئی دہلی سمیت 15 شہروں میں "جے ہند ریلیوں" کا انعقاد کرے گی تاکہ "آپریشن سندور" میں ہندوستانی مسلح افواج کی ستائش کی جا سکے، نیز مودی حکومت سے بھارت و پاکستان جنگ بندی میں امریکی ثالثی اور پہلگام دہشت گردانہ حملے میں مبینہ طور پر سکیورٹی میں کوتاہی کے بارے میں پوچھ گچھ کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: راہل گاندھی نے پاکستان کو
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔