Express News:
2026-06-03@08:41:31 GMT

بے پرواہ مسیحائی، غافل شفا خانے

اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT

ہمارے اسپتالوں سے مریض شفایاب ہوکر بھی گھروں کو واپس آتے ہیں اور ’’مر‘‘ کر بھی۔ اسپتال میں کسی کی موت کا واقع ہوجانا کوئی اچنبھے والی بات نہیں، یہ بھی ضروری نہیں کہ جو مریض وہاں جائے وہ زندہ سلامت گھر واپس بھی آجائے، یہ تو منحصر ہے بیماری کی نوعیت اور مریض کی کنڈیشن پر، بروقت معیاری علاج اور اچھے شفاخانوں میں ہوتی بہترین دیکھ بھال پر۔

 اب بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں اچھے شفا خانے کون سے ہیں؟ یہ فیصلہ کرنا ایک کٹھن اور مشکل ترین کام معلوم ہوتا ہے، عام طور پراسپتال یا تو سرکاری ہوتے ہیں یا پھر پرائیویٹ۔ نجی اسپتال اچھی خاصی رقم لے رہے ہوتے ہیں اور اس کے بدلے وہ اپنی سروسز دے رہے ہوتے ہیں۔

اچھے تو وہ تب کہلائیں کہ جب بہترین خدمات پہنچا رہے ہوں اور اس کے عوض ناجائز منافع خوری سے اپنی تجوریاں نہ بھر رہے ہوں، پرائیویٹ اسپتال جائز اور ایماندارانہ معاوضہ لے رہے ہوں تو پھرکیونکر نہ سراہے جائیں، تعریفیں ہوں، عزت، وقار، نیک نامی اور شہرت میں کئی گُنا اضافہ ہو اور بالاخر اسپتالوں کو اُن کے مطلوبہ اہداف بھی حاصل ہو ہی جائیں۔ دوسری جانب سرکاری اسپتال ہوتے ہیں۔

 اب سمجھ نہیں آرہا کہ سرکاری اسپتالوں کی یہاں کیا بات کی جائے، 78  برس ہونے کو آئے ہیں اور صرف باتیں ہی تو ہو رہی ہیں۔ خیر، بوجہ وقت کم مقابلہ سخت، ہم آگے بڑھتے ہیں اور اسپتالوں میں ہونے والی اموات کے بارے میں اپنی گفتگو جاری رکھتے ہیں۔ اسپتال میں کسی مریض کا مرجانا کوئی ایسی انہونی بات نہیں، نہ ہی یہ کوئی حیران کن اور پریشانی والی بات ہے۔

 لیکن ہاں،کچھ اموات ایسی ضرور ہوتی ہیں جو شکوک و شبہات پیدا کردیتی ہیں، سوالات اُٹھا دیتی ہیں، اعتماد کو ٹھیس پہنچاتی ہیں، روح کو گھائل اور عمر بھرکے لیے آنکھوں میں آنسو دے جاتی ہیں۔ ڈاکٹروں کی غفلت، مطلوبہ طبی آلات اور ساز و سامان کی عدم دستیابی، ماہر، قابل اور تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی عدم موجودگی، غیر ذمے دارانہ اور انسانی ہمدردی سے عاری رویے، پیشہ ورانہ نظام کی ناقص صورتحال وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔شفا خانوں میں مریضوں کی اموات کے ذمے دار لواحقین کی جانب سے ڈاکٹروں کو یا دوسرے الفاظ میں اُن سے سرزد ہونے والی غفلت کو ٹھہرا دیا جانا کافی حیران کن اور افسوس ناک ہوتا ہے۔

 ایک مسیحا کسی مریض کی جان کیسے اور کیونکر لے سکتا ہے؟ کوشش تو ڈاکٹروں کی یہی ہوتی ہے کہ مریض کی زندگی بچ جائے، لیکن پھر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جان لینے جیسا سنگین الزام مسیحائوں پر لگا دیا جاتا ہے؟ بہرحال، لگائے گئے ایسے الزامات میں کتنی صداقت ہوتی ہے اس کا فیصلہ تو غیر جانبدارانہ، منصفانہ اور شفاف چھان بین کے بعد ہی ہوسکتا ہے۔

 لیکن یہ چھان، بین کرے کون؟ اسپتال انتظامیہ خود اپنے طور پر انتہائی رازداری اور خاموشی سے معاملے کو Investigate کرتی ہیں اور پھر… پھرکیا ہوتا ہے، کوئی نہیں جان پاتا،کچھ پتہ نہیں چل پاتا، اسپتالوں کا کام زور و شور سے جاری و ساری رہتا ہے اور پھرکچھ عرصے بعد اسی نوعیت کا دوسرا واقعہ روُنما ہوجاتا ہے، یعنی لاپرواہی اور غفلتوں کے نہ تھمنے والے سلسلے برسہا برس چلتے ہی رہتے ہیں۔

طبی معاملات اس قدر پیچیدہ نوعیت کے ہوتے ہیں ( یا بنا دیے جاتے ہیں) کہ سیدھے، سادھے عام لوگوں کو بالکل بھی سمجھ نہیں آتے، عوام کو کیونکہ پیچیدہ طبی معاملات کی سمجھ بوجھ نہیں ہوتی، اسی لیے ڈاکٹر انھیں جو بتا دیتا ہے، وہ اس پر یقین کرلیتے ہیں، اُن بیچاروں کو اتنا شعور ہی نہیں ہوتا کہ وہ اس حوالے سے کچھ سوچ سمجھ سکیں اور معاملے کی گہرائی تک پہنچ سکیں، بس روتے، دھوتے لے جاتے ہیں، میت کو واپس اپنے گھر، اپنے گائوں، دیہات اورکفن دفن کے انتظامات میں لگ جاتے ہیں، ڈاکٹر اور اسپتال انتظامیہ صاف بچ نکلنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

 شفا خانوں میں یہ بھی اکثر دیکھنے میں آتا ہے کم عمر، نا تجربہ کار اور غیرتربیت یافتہ ڈاکٹروں کو ایسے وارڈز یا شعبوں میں تعینات کردیا جاتا ہے کہ جہاں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا مریض موجود ہوتے ہیں، ایسا کیوں کیا جاتا ہے؟ اس کا جواب تو اُس اسپتال کی انتظامیہ ہی بہتر طور پر دے سکتی ہے، پھر دیکھنے میں، ڈیوٹی پر موجود کچھ ایسے ڈاکٹرز بھی آتے ہیں جنھوں نے ہاتھوں میں موٹی سی ایک بھاری بھرکم کتاب پکڑی ہوتی ہے اور اپنے سامنے بیڈ پر لیٹے مریض کے بارے میں اُس کتاب سے رہنمائی حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔

 اب یہ ایکٹ کتنا مناسب یا غیر مناسب ہے اس پر تو طبی امور پر دسترس رکھتے ماہرین سے ہی پوچھا جاسکتا ہے، بہرحال، اس منظرکو دیکھنے والی عام آنکھ اور ایک عام ذہن پر اس کے مثبت اثر ات قائم نہیں ہوتے۔  اصل سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے اسپتال پیشہ ورانہ قواعد وضوابط اور اصولوں کی پابندی کررہے ہیں؟ کس حد تک اخلاقی، قانونی، معاشرتی اور انسانی قدروں کی پاسداری عمل میں لائی جا رہی ہے؟ اور یہ سوال بھی کہ کیا ہمارے یہاں رائج صحت سے جڑے نظام میں ایسے طریقہ کار وضع ہیں کہ جن کی بابت متنازعہ معاملات کی خودکار طور پر باآسانی نشاندہی ہوسکے۔

بہت آسانی سے یہ پتہ چل سکے کہ شفاخانوں یا ڈاکٹروں پر لگے کسی بھی الزام کی اصل حقیقت کیا ہے، سچ اور جھوٹ کا پتہ چلایا جا سکے، مانیٹرنگ کے جدید نظام کے تحت اسپتالوں ( بالخصوص سرکاری شفا خانوں ) میں ہونے والی Activities  پر نظر رکھی جا سکے۔ مانیٹرکیا جاسکے کہ کیا آپریشن تھیٹرز میں تمام تر Standardized Protocols  کو پورا کیا جا رہا ہے؟ پرائیویٹ اسپتالوں میں مریضوں کےStay  کو بلاضرورت ہی طول تو نہیں دیا جا رہا تاکہ آخر میں وصول کیے جانے والے بل کا حجم کئی گنا بڑھایا جا سکے۔

 ڈاکٹروں کی جانب سے مریضوں کو وہی دوائیاں لکھ کردی جا رہی ہیں جو اثرکرتی ہیں یا پھر فارما سیوٹیکل کمپنیوں کی جانب سے دیے جانے والے پرکشش Incentives، میڈیکل اسٹورز پر رکھی مخصوص دوائیں ہی فروخت کروا رہے ہیں؟  میڈیکل پروفیشن سے وابستہ خامیوں،خرابیوں (خوبیوں پر بھی ) بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔

 لیکن مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ، ساتھ اُن کے حل کی تلاش بھی بہت ضروری ہے، حل نہایت سیدھا اور آسان سا ہے اور وہ یہ کہ اسپتال سے وابستہ ہر وہ شخص جو غفلت، لاپرواہی، غیرذمے دارانہ رویوں اور سوچ کا شکار ہے اُسے چاہیے کہ اپنے اندر سوئے ہوئے انسانی جذبات اور احساسات کو جگانا شروع کرے۔

خود احتسابی کے عمل کو اپنانا شروع کرے، شروع کرے یہ سوچنا کہ وہ ایک ایسے پیشے سے وابستہ ہے جس سے لوگوں کی زندگی اور موت جڑی ہوئی ہے، اس احساس کو شدت سے محسوس کرے کہ وہ ایک ایسا کام کر رہا ہے جسے ’’ نوبل پروفیشن‘‘ کہا گیا ہے۔ غافل، مغرور اور انسانی جان کی قدروقیمت سے نا آشنا مسیحا،مسیحائی کے معنی اور مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

کوشش یہ سمجھنے کی بھی کی جائے کہ انسانی زندگی کوئی ٹی وی یا ٹیپ ریکارڈر نہیں کہ جسے کوئی مکینک لاپرواہی اور بے ایمانی سےpair  Re کرتے ہوئے دوبارہ لائے جانے کی راہ ہموار کر لے اور پھرکسی دن کسٹمرکو یہ مشورہ بھی دے ڈالے کہ ’’ اب مشین ناکارہ ہوگئی ہے، ٹین ڈبے والے کو بیچ کر نئی لے لو‘‘ اور نہ ہی انسانی علاج معالجے کا عمل سیر و تفریح پر بنا کوئی کچا، پکا پروگرام ہے جسے جب چاہے Okay  اور جب چاہے Cancel کردیا جائے۔ میڈیکل پروفیشن معتبر ہونے کے ساتھ، ساتھ ایک انتہائی ذمے دارانہ، حساس اور دوسرے پیشوں سے قطعا مختلف پروفیشن ہے، اسپتالوں کا کام زندگی کے دیے کو روشنی بخشنا ہوتا ہے۔

 اگر موت کی علامت کے طور پرگردانے جائیں تو ایک قیامت ہی برپا ہوجائے۔ زندگیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں اسپتال انتظامیہ پر بھار ی ذمے داری عائد ہوتی ہے، ایسی پالیسیاں اور طریقہ کار اپنائے جائیں جو شفافیت کو یقینی بناسکیں اور عوام الناس کے اعتماد میں اضافے کا موجب بن سکیں ۔

 اسپتال مناسب تشہیرکاری کے تحت لوگوں کو اپنے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی دیں، غلطیاں اگر سرزد ہو بھی جائیں تو اُن پر پردہ پوشی کے بجائے اُن سے سبق سیکھا جائے اور روک تھام کے سلسلے میں فوری، دیرپا اور منصفانہ اقدامات عمل میں لائے جائیں۔ زندگی خوبصورت ہے، اہم اور انمول بھی، چاہے وہ کسی ڈاکٹر کی ہو یا پھر اسپتالوں میں ڈاکٹروں کے ذریعے علاج پاتے مریضوں کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈاکٹروں کی ہوتے ہیں ہوتی ہے ہوتا ہے ہیں اور کی جان اور اس

پڑھیں:

جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟

اسلام ٹائمز: اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ تحریر: سید محمد

کسی پرانے جوئے خانے کی ایک کہاوت مشہور ہے "تم اس وقت تک حقیقتاً نہیں پھنستے جب تک تمہیں یہ احساس نہ ہو جائے کہ باہر نکلنے کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔" مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سیاسی بساط پر اسرائیل یہی کھیل کھیل رہا ہے۔ ظاہری بیانیے کو ایک طرف رکھیں تو ایک واضح حقیقت سامنے آتی ہے: اسرائیل ایران کی ایٹمی صلاحیت یا میزائل پروگرام سے کم اور امریکی انخلا کے محض امکان سے زیادہ خوفزدہ ہے۔ یہ خوف کوئی معمولی تشویش نہیں بلکہ ایک ایسی وحشت ہے، جو اسرائیلی حکمتِ عملی کے ہر پہلو کو تشکیل دے رہی ہے۔

اسرائیل ہر اس راستے کو سبوتاژ کرتا دکھائی دیتا ہے، جو واشنگٹن کو بحران سے نکلنے کا راستہ فراہم کرسکے۔ یہاں جنگ کا مقصد دشمن کو شکست دینا نہیں بلکہ اتحادی کو اس حد تک اندر کھینچ لینا ہے کہ وہ خود جنگ کا قیدی بن جائے۔ سوال یہ نہیں کہ امریکہ اس تنازعے میں شریک رہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس حد تک شریک ہو جائے کہ بعد میں الگ نہ ہوسکے۔ یہ حکمتِ عملی ایک نفسیاتی اور سیاسی جال کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ ابتدا ہی سے اسرائیل نے ٹرمپ کو ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم کی طرف دھکیلا اور ٹرمپ اپنی طاقت اور امریکی بالادستی کے تصور میں اس قدر گرفتار رہا کہ اسے واپسی کا راستہ دکھائی نہ دیا۔

ایران اور مزاحمتی محاذ کی استقامت نے امریکی عسکری برتری کے اُس طلسم کو چیلنج کر دیا، جسے دہائیوں سے ناقابلِ شکست تصور کیا جاتا تھا۔ اربوں ڈالر کے دفاعی نظام، جدید ٹیکنالوجی اور وسیع عسکری اتحاد بھی خطے میں پیدا ہونے والی نئی بے یقینی کو روک نہ سکے، جبکہ امریکی دفاعی چھتری اور اڈوں کی محدودیت پہلے سے زیادہ نمایاں ہوگئی۔ اسی میدان میں اہداف کا مسلسل سکڑنا بھی صورتِ حال کا مظہر تھا۔ ایران میں رجیم تبدیلی جیسے بڑے ہدف سے شروع ہونے والا معرکہ بلاشرط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے، دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنے اور بالآخر آبنائے ہرمز کو کھلوانے جیسے محدود اہداف تک سمٹ آیا، جبکہ امریکی دھمکیاں بھی بتدریج ایرانی سویلین انفراسٹرکچر اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے تک گر آئیں۔

اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ دوسری طرف سفارتی اخراج کا راستہ تھا، مگر یہاں بھی مسئلہ یہ تھا کہ اسرائیل جس صف بندی کو اپنی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتا ہے، وہی امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کے لیے معاشی، سیاسی اور سکیورٹی خطرات کا باعث بن سکتی تھی۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور دیگر خلیجی ریاستیں اپنی معیشتوں، توانائی کی تنصیبات اور سرمایہ کاری کے مراکز کے باعث براہِ راست خطرات سے دوچار ہوسکتی تھیں۔ اسی لیے وہ ایسے راستوں کی تلاش میں تھیں، جو ضروری نہیں کہ اسرائیل کے مفادات سے ہم آہنگ ہوں۔ آج اگر امریکہ اپنے مفادات کے لیے واپس چلا جاتا ہے تو اسرائیل تنہا رہ جاتا ہے، لیکن اگر پورا امریکی وقار، افواج اور سیاسی سرمایہ اس جنگ سے جڑ جائے تو واشنگٹن کے لیے اسرائیل سے فاصلہ اختیار کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

روایتی جنگوں کا مقصد دشمن کو شکست دینا ہوتا ہے، لیکن اسرائیل نے جنگ کو ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا سیکھ لیا ہے، جس کا نشانہ دشمن نہیں بلکہ اس کا سب سے بڑا اتحادی یعنی امریکہ ہے۔ لبنان کا محاذ بھی اب صرف میدانِ جنگ کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ سفارتی عمل کو متاثر کرنے کا ایک مؤثر آلہ بن چکا ہے۔ جب بھی مذاکرات یا کشیدگی میں کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے، لبنان دوبارہ مرکزِ توجہ بن جاتا ہے۔ اس کے ذریعے کسی بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ یا سست کیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکہ ایران کے ساتھ کسی مفاہمت تک پہنچ جاتا ہے تو یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ خطے کے اہم معاملات اسرائیل کی براہِ راست شمولیت کے بغیر بھی طے ہوسکتے ہیں اور یہی وہ تاثر ہے، جسے اسرائیل ٹوٹنے نہیں دینا چاہتا۔

بعض ریاستوں کے لیے مستقل بحران خود ایک قیمتی سرمایہ بن جاتا ہے۔ جاری کشیدگی اتحادیوں کو متحد اور سکیورٹی خدشات کو زندہ رکھتی ہے۔ اسرائیل کے لیے فوری امن یا جامع سیاسی تصفیہ شاید اتنا مفید نہیں جتنا ایک ایسا کنٹرولڈ بحران جو مسلسل مغربی حمایت اور علاقائی توجہ کو اس کی طرف کھینچے رکھے۔ یہ تمام عوامل امریکہ کو ایک غیر معمولی اسٹریٹجک دباؤ کے دائرے میں دھکیل چکے ہیں۔ ایک طرف ایران کی ایسی مزاحمت ہے، جو کسی حتمی فوجی حل کو ناممکن بناتی ہے، دوسری طرف اسرائیل کی خواہش ہے کہ واشنگٹن مکمل طور پر بحران میں جکڑا رہے، جبکہ تیسری طرف علاقائی اتحادی کشیدگی میں کمی چاہیتے ہیں تاکہ ان کی معیشتیں اور داخلی استحکام محفوظ رہ سکیں۔ نتیجتاً امریکہ ایک ایسی پوزیشن میں کھڑا ہے، جہاں آگے بڑھنا بھی خطرناک ہے، پیچھے ہٹنا بھی مشکل اور جمود بھی اتحادیوں کے اعتماد کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں بلکہ بعض اوقات ان کی سب سے بڑی کامیابی مخالف اتحاد کے اندر موجود تضادات، کمزوریوں اور متصادم مفادات کو بے نقاب کرنے اور اس کے سیاسی، سفارتی اور اسٹریٹجک ڈھانچے میں دراڑیں نمایاں کرنے میں ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حماقت سے نارملائزیشن فریم ورک کو شدید دھچکا پہنچنے کے باوجود، سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکی، مصر اور اردن جیسے ممالک پر ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت اور واضح سیاسی صف بندی کے لیے دباؤ بڑھانا بھی قابلِ توجہ ہے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ممالک سے ایک ایسے بحران میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جس کے ممکنہ عسکری، معاشی اور سیاسی نتائج کا بوجھ بھی انہیں خود اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے