یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو ایک قطرہ خوں نہ نکلا
موجودہ حالات کے تناظر میں مجھے درج بالا شعر یاد آگیا۔ بہت دن سے بھارت بڑھکیں مار رہا تھا کہ پاکستان پر حملہ کردیں گے اور نہ جانے کیا کیا اول فول بک رہا تھا، وہ اس بات سے بھی واقف تھا بلکہ مکمل معلومات رکھتا تھا، چونکہ پوری دنیا میں پاکستان کی ایٹمی طاقت کا ڈنکا بجتا ہے لیکن پاکستان کی مصلحت پسندی، دور اندیشی، معاملہ فہمی اور متانت کے اس نے کچھ اور ہی معنی لیے تھے، اسے یہ نہیں معلوم تھا:
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
صرف پونے چار گھنٹے کی جنگ میں ہمارے پائیلٹوں نے بھارت کے رافیل طیاروں کو تباہ و برباد کر دیا، مودی کی جنگی جنون کی عمارت تین ستونوں پر کھڑی تھی اسے غرور اور مکمل اعتماد تھا رافیل طیاروں پر، اپنے ملک کا دفاعی نظام اور پاکستان کو کمزور اور قابل شکست سمجھنا اس کی بھول ثابت ہوئی، اس نے اور اس کی افواج اور پوری دنیا نے دیکھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے کایا پلٹ گئی اور خوش فہمی کا جنازہ اس قدر دھوم سے نکلا جسے سپر طاقتیں بھی دیکھ کر دنگ رہ گئیں۔
رافیل کو ملیامیٹ کرنے کے بعد روسی ساختہ دفاعی نظام کو گرانے میں بھی دیر نہیں لگی، روسی ساختہ دفاعی نظام بلا مبالغہ پچاس طیاروں اور اتنے ہی میزائلز کو ایک ہی وقت میں ہینڈل کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ بھارت کا سب سے بڑا بت ٹوٹنے کے بعد پورا بھارت پاکستانی میزائلوں کے رحم و کرم پر تھا، تین گھنٹوں کی گولہ باری نے بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبورکردیا تھا۔شوق شہادت میں مسلمان افواج اپنی جانوں کی پرواہ نہیں کرتی ہے، بڑھتی چلی جاتی ہیں حتیٰ کہ دشمن تلوے چاٹنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
جنھیں تُو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذتِ آشنائی
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی
بھارت میں ’’فتح‘‘ میزائل کے قصیدے پڑھے جا رہے ہیں، ہر آنکھ حیران اور دل پریشان ہے یہ سب کچھ کیسے ہوگیا۔بھارتی حکومت نے تو سوچا بھی نہ تھا کہ یہ وقت بھی دیکھنا پڑے گا۔ فتح میزائل کی شان تو دیکھیے کہ اس نے متعدد ہوائی اڈے اور میزائل سسٹمز اور براہموس سپرسانک کے ذخیروں کو تباہ کرکے اپنی دھاک بٹھا دی ہے۔ فتح میزائل سسٹم کو خاص طور پر دشمن کی فوج کی نقل و حرکت کو روکنے اور توپ خانے کو ختم کرنے یا انتہائی اہمیت کے حامل تکنیکی اہداف کو نیست و نابود کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
مودی کو اپنی ذلت آمیز شکست اور پوری دنیا سے ملنے والی حزیمت برداشت نہیں ہو رہی ہے، اسی لیے ایک بار پھر وہ اپنی درخواست سے مکر گیا ہے، اب اس کا یہ کہنا ہے کہ اس نے جنگ بندی کی بھیک نہیں مانگی، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے جب بھارت تباہی کی دلدل میں جا کر پھنس گیا تھا اور کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا تو کیا اس نے اس وقت صدر ٹرمپ سے امریکن بیکری کے ڈونٹنس مانگے تھے؟
اس وقت کے حالات کے مطابق اسے سفید جھنڈا دکھا کر جنگ بندی کی بھیک ہی مانگنی تھی جو اس نے مانگی، بھارت کی وزارت دفاع نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس کر کے کہا کہ اگر پاکستان جنگ بند کر دے تو ہم بھی مزید تناؤ نہیں چاہتے، صدر ٹرمپ کی مدد سے جنگ بندی کا معاملہ طے ہو سکا۔ مودی نے درخواست کی کہ وہ بھارت کو بچا لے اور پاکستان کو جنگ بندی پر مجبورکرے، اس کی وجہ سے بھارت بڑے خسارے اور ساتھ میں بدنامی کی زد میں آ گیا۔
انڈیا کی اسٹاک مارکیٹ کریش کر گئی، بھارتی معیشت کو 83 بلین ڈالر کا نقصان ہوا، پاکستان نے ایئر اسپیس بند کر دیں اس وجہ سے بھارتی ایئرلائنز خسارے میں گئیں، بھارت کی 10 اہم ترین ملٹری تنصیبات تباہ ہو گئیں، دہلی کی فضا میں تقریباً 4 گھنٹے تک پاکستانی ڈرونز پرواز کرتے رہے، ہندوستان کا سیٹلائٹ نظام ناکام ہو گیا، کشمیر میں 10 سے زائد چیک پوسٹوں پر پاکستان نے قبضہ کیا، پوری دنیا میں ہندوستانی حکومت کا فراڈ اور جھوٹ سامنے آ گیا۔بھارت نے 6 اور 7 مئی 2025 کی شب حملے شروع کیے تھے۔
حملوں کے نتیجے میں ہمارے بچے، خواتین اور بزرگ شہید ہوئے تھے، اس موقعے پر آئی ایس پی آر پاکستان نے بھارتی فوجی جارحیت اور ہمارے شہریوں کے بے رحمانہ قتل کے خلاف انصاف اور بدلہ لینے کا عزم کیا تھا۔ الحمدللہ پاکستان کی مسلح افواج نے اپنے عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کیا۔اللہ تعالیٰ نے مومنین کو حکم دیا ہے کہ جب ان پر ظلم کیا جائے تو وہ اس کا مقابلہ کریں۔ پاکستانی مسلح افواج نے 26 بھارتی فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا، براہموس میزائل ذخائر اور ایس400 سسٹمز کو موثرانداز میں تباہ کیا، دشمن نے سفید جھنڈا لہرا کر جنگ بندی کی درخواست کی۔
پاکستان کی اس عظیم الشان کامیابی کا اعتراف جہاں دوسرے ممالک نے کیا وہاں بھارت کے سابق فوجی اور ہندوستان کی جنتا بھی واہ واہ کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ مودی اور اسرائیلی وزیر اعظم کی ملی بھگت اور سازش سے ہی غزہ میں خونی کھیل کھیلا جا رہا ہے چونکہ ان دل خراش واقعات پر کوئی مسلم ملک سامنے نہیں آیا، تب ان حالات میں انھیں شے مل گئی کہ اب پاکستان کو مزہ چکھایا جائے، مسلمانوں کا خون بہایا جائے، لیکن اس بار ان دونوں، تینوں دشمنوں کی خواہش پوری نہ ہو سکی بلکہ خلاف توقع پاکستان کی مدد اور تعاون کے لیے ایران، ترکی اور دوسرے کئی ممالک پیش پیش رہے، پاکستان کی فتح کی خوشی میں بیرون ممالک میں بھی جشن منایا گیا اور مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ صدر ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کو حل کرانے کے لیے بھی پیشکش کی ہے۔
مودی کی ہٹ دھرمی، ظالمانہ روش اور جنگی جنون نے معرکہ حق کے دوران 11 جوان بھارتی حملوں میں شہید ہوئے اور 40 شہری 78 اہلکار زخمی ہوئے۔ ہندوستان تیار رہے ہماری فوج اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک کہ وہ اپنے نوجوانوں کی شہادت کا بدلہ نہ لے لے۔ بلکہ وہ مزید چھیڑ خانیاں اور شہریوں کو شہید کرکے خود موقع فراہم کر رہا ہے کہ آؤ مجھے مارو، ختم کر دو مجھ جیسے خونی درندوں کو۔ اور ایسا ہی ہوگا۔
سابق بھارتی آرمی چیف نے حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’جنگ ہالی وڈ کی فلم نہیں ہے، پرامن مذاکرات کا راستہ ضروری ہے۔‘‘ پاک بھارت جنگ کے پس منظر میں انھوں نے کہا کہ جس طرح عوامی سطح پر بھرپور طریقے سے جنگ پر اکسانے کی کوشش کی گئی وہ افسوس ناک ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان کی پوری دنیا
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس