Express News:
2026-07-24@02:52:26 GMT

یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے

اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT

بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو ایک قطرہ خوں نہ نکلا

 موجودہ حالات کے تناظر میں مجھے درج بالا شعر یاد آگیا۔ بہت دن سے بھارت بڑھکیں مار رہا تھا کہ پاکستان پر حملہ کردیں گے اور نہ جانے کیا کیا اول فول بک رہا تھا، وہ اس بات سے بھی واقف تھا بلکہ مکمل معلومات رکھتا تھا، چونکہ پوری دنیا میں پاکستان کی ایٹمی طاقت کا ڈنکا بجتا ہے لیکن پاکستان کی مصلحت پسندی، دور اندیشی، معاملہ فہمی اور متانت کے اس نے کچھ اور ہی معنی لیے تھے، اسے یہ نہیں معلوم تھا:

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

صرف پونے چار گھنٹے کی جنگ میں ہمارے پائیلٹوں نے بھارت کے رافیل طیاروں کو تباہ و برباد کر دیا، مودی کی جنگی جنون کی عمارت تین ستونوں پر کھڑی تھی اسے غرور اور مکمل اعتماد تھا رافیل طیاروں پر، اپنے ملک کا دفاعی نظام اور پاکستان کو کمزور اور قابل شکست سمجھنا اس کی بھول ثابت ہوئی، اس نے اور اس کی افواج اور پوری دنیا نے دیکھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے کایا پلٹ گئی اور خوش فہمی کا جنازہ اس قدر دھوم سے نکلا جسے سپر طاقتیں بھی دیکھ کر دنگ رہ گئیں۔

 رافیل کو ملیامیٹ کرنے کے بعد روسی ساختہ دفاعی نظام کو گرانے میں بھی دیر نہیں لگی، روسی ساختہ دفاعی نظام بلا مبالغہ پچاس طیاروں اور اتنے ہی میزائلز کو ایک ہی وقت میں ہینڈل کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ بھارت کا سب سے بڑا بت ٹوٹنے کے بعد پورا بھارت پاکستانی میزائلوں کے رحم و کرم پر تھا، تین گھنٹوں کی گولہ باری نے بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبورکردیا تھا۔شوق شہادت میں مسلمان افواج اپنی جانوں کی پرواہ نہیں کرتی ہے، بڑھتی چلی جاتی ہیں حتیٰ کہ دشمن تلوے چاٹنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
جنھیں تُو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذتِ آشنائی
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی

بھارت میں ’’فتح‘‘ میزائل کے قصیدے پڑھے جا رہے ہیں، ہر آنکھ حیران اور دل پریشان ہے یہ سب کچھ کیسے ہوگیا۔بھارتی حکومت نے تو سوچا بھی نہ تھا کہ یہ وقت بھی دیکھنا پڑے گا۔ فتح میزائل کی شان تو دیکھیے کہ اس نے متعدد ہوائی اڈے اور میزائل سسٹمز اور براہموس سپرسانک کے ذخیروں کو تباہ کرکے اپنی دھاک بٹھا دی ہے۔ فتح میزائل سسٹم کو خاص طور پر دشمن کی فوج کی نقل و حرکت کو روکنے اور توپ خانے کو ختم کرنے یا انتہائی اہمیت کے حامل تکنیکی اہداف کو نیست و نابود کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

مودی کو اپنی ذلت آمیز شکست اور پوری دنیا سے ملنے والی حزیمت برداشت نہیں ہو رہی ہے، اسی لیے ایک بار پھر وہ اپنی درخواست سے مکر گیا ہے، اب اس کا یہ کہنا ہے کہ اس نے جنگ بندی کی بھیک نہیں مانگی، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے جب بھارت تباہی کی دلدل میں جا کر پھنس گیا تھا اور کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا تو کیا اس نے اس وقت صدر ٹرمپ سے امریکن بیکری کے ڈونٹنس مانگے تھے؟

اس وقت کے حالات کے مطابق اسے سفید جھنڈا دکھا کر جنگ بندی کی بھیک ہی مانگنی تھی جو اس نے مانگی، بھارت کی وزارت دفاع نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس کر کے کہا کہ اگر پاکستان جنگ بند کر دے تو ہم بھی مزید تناؤ نہیں چاہتے، صدر ٹرمپ کی مدد سے جنگ بندی کا معاملہ طے ہو سکا۔ مودی نے درخواست کی کہ وہ بھارت کو بچا لے اور پاکستان کو جنگ بندی پر مجبورکرے، اس کی وجہ سے بھارت بڑے خسارے اور ساتھ میں بدنامی کی زد میں آ گیا۔

انڈیا کی اسٹاک مارکیٹ کریش کر گئی، بھارتی معیشت کو 83 بلین ڈالر کا نقصان ہوا، پاکستان نے ایئر اسپیس بند کر دیں اس وجہ سے بھارتی ایئرلائنز خسارے میں گئیں، بھارت کی 10 اہم ترین ملٹری تنصیبات تباہ ہو گئیں، دہلی کی فضا میں تقریباً 4 گھنٹے تک پاکستانی ڈرونز پرواز کرتے رہے، ہندوستان کا سیٹلائٹ نظام ناکام ہو گیا، کشمیر میں 10 سے زائد چیک پوسٹوں پر پاکستان نے قبضہ کیا، پوری دنیا میں ہندوستانی حکومت کا فراڈ اور جھوٹ سامنے آ گیا۔بھارت نے 6 اور 7 مئی 2025 کی شب حملے شروع کیے تھے۔

 حملوں کے نتیجے میں ہمارے بچے، خواتین اور بزرگ شہید ہوئے تھے، اس موقعے پر آئی ایس پی آر پاکستان نے بھارتی فوجی جارحیت اور ہمارے شہریوں کے بے رحمانہ قتل کے خلاف انصاف اور بدلہ لینے کا عزم کیا تھا۔ الحمدللہ پاکستان کی مسلح افواج نے اپنے عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کیا۔اللہ تعالیٰ نے مومنین کو حکم دیا ہے کہ جب ان پر ظلم کیا جائے تو وہ اس کا مقابلہ کریں۔ پاکستانی مسلح افواج نے 26 بھارتی فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا، براہموس میزائل ذخائر اور ایس400 سسٹمز کو موثرانداز میں تباہ کیا، دشمن نے سفید جھنڈا لہرا کر جنگ بندی کی درخواست کی۔

پاکستان کی اس عظیم الشان کامیابی کا اعتراف جہاں دوسرے ممالک نے کیا وہاں بھارت کے سابق فوجی اور ہندوستان کی جنتا بھی واہ واہ کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ مودی اور اسرائیلی وزیر اعظم کی ملی بھگت اور سازش سے ہی غزہ میں خونی کھیل کھیلا جا رہا ہے چونکہ ان دل خراش واقعات پر کوئی مسلم ملک سامنے نہیں آیا، تب ان حالات میں انھیں شے مل گئی کہ اب پاکستان کو مزہ چکھایا جائے، مسلمانوں کا خون بہایا جائے، لیکن اس بار ان دونوں، تینوں دشمنوں کی خواہش پوری نہ ہو سکی بلکہ خلاف توقع پاکستان کی مدد اور تعاون کے لیے ایران، ترکی اور دوسرے کئی ممالک پیش پیش رہے، پاکستان کی فتح کی خوشی میں بیرون ممالک میں بھی جشن منایا گیا اور مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ صدر ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کو حل کرانے کے لیے بھی پیشکش کی ہے۔

مودی کی ہٹ دھرمی، ظالمانہ روش اور جنگی جنون نے معرکہ حق کے دوران 11 جوان بھارتی حملوں میں شہید ہوئے اور 40 شہری 78 اہلکار زخمی ہوئے۔ ہندوستان تیار رہے ہماری فوج اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک کہ وہ اپنے نوجوانوں کی شہادت کا بدلہ نہ لے لے۔ بلکہ وہ مزید چھیڑ خانیاں اور شہریوں کو شہید کرکے خود موقع فراہم کر رہا ہے کہ آؤ مجھے مارو، ختم کر دو مجھ جیسے خونی درندوں کو۔ اور ایسا ہی ہوگا۔

سابق بھارتی آرمی چیف نے حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’جنگ ہالی وڈ کی فلم نہیں ہے، پرامن مذاکرات کا راستہ ضروری ہے۔‘‘ پاک بھارت جنگ کے پس منظر میں انھوں نے کہا کہ جس طرح عوامی سطح پر بھرپور طریقے سے جنگ پر اکسانے کی کوشش کی گئی وہ افسوس ناک ہے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان کی پوری دنیا

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف