اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پہلگام واقعے کے پہلے ہی دن سے عالمی برداری میں پاکستان کا پلڑا بھاری تھا مگر پھر بھی ہم نے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا کہ پہلگام واقعےکے بعد بھارتی میڈیا نے شور مچایا تھا، ہم نے مختلف ممالک کو آگاہ کیاتھا کہ ہم پہل نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ 9 مئی کی رات کو ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تھا جس کے بعد افواج پاکستان نے دشمن کوبھرپورجواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے جھوٹ بولا تھا کہ پاکستان نے 15مقامات پرحملہ کیا۔نائب وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے مختلف ممالک کوبتایا کہ ہم نے ابھی تک حملہ کیا جس پر ایک مغربی ملک نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے آپ سچ کہہ رہےہیں۔

آج اپنے لڑکپن اور یوتھ موومنٹ ادوار میں جھانکتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم نوجوان انجانے میں ”حلف الفضول“ کے مطابق کاوش کر رہے تھے

وزیر خارجہ نے کہا کہ سیز فائر پرعملدرآمد ہو رہا ہے اور ہم اس پر کاربند ہے تاہم اگر کسی بھی قسم کی جارحیت، شر انگیزی یا سیز فائر کی خلاف ورزی ہوئی تو ہمارا جواب بھرپور ہوگا۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پہلگام واقعہ ہوا تو کچھ ممالک نے کہا تھا کہ بھارت پنچ لگائے گا جس پر ہم نے واضح کیا تھا کہ اگر بھارت نے کچھ کیا تو ہم اس کاجواب دیں گے۔ بھارت نے پاکستان کا ایف 16 طیارہ گرانےکا دعویٰ کیا تھا جس کی قلعی خود کھل کر سب کے سامنے آگئی۔

نائب وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کا پلڑا پہلے دن سےبھاری ہے، ہم نےشروع سےکہا تھا کہ پہلگام پرتحقیقات کیلئے تیار ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت کو جواب دینے کا پلان ہم نے پہلے بنا لیا تھا مگر اس پر عمل درآمد نور خان ایئربیس پر حملے کے بعد کیا۔انہوں نے بتایا کہ 10مئی کی صبح سوا آٹھ  بجے امریکی وزیرخارجہ کا فون آیا اور انہوں نے بتایا کہ بھارت سیزفائر کیلئے تیار ہے۔  اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم عوام کی بہتری اورمعیشت کیلئے امن چاہتے ہیں اس لیے سیز فائر پر رضامندی ظاہر کی۔ 

ویک اینڈ پر گھر جاتا امی جی میرے لئے تین چار کھانے بنا دیتیں، فریج میں رکھوا دیتا یوں پردیس میں ہوتے بھی ماں کے ہاتھ کے بنے کھانوں کا لطف اٹھا تا

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے کہا پاکستان کا کہ پہلگام نے کہا کہ کہ بھارت انہوں نے تھا کہ

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار