قلعہ عبداللہ میں ایف سی قلعہ کے قریب بم دھماکہ اور فائرنگ، 3 افراد شہید
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں امن دشمن عناصر نے ایک بار پھر خون کی ہولی کھیلنے کی کوشش کی، ایف سی قلعہ گلستان کے قریب واقع مارکیٹ میں جمعے کی شب ایک کار بم دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں تین افراد شہید اور تین زخمی ہو گئے۔ دھماکے کے فوری بعد علاقے میں شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ نے دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بم ایک گاڑی میں نصب کیا گیا تھا جو ایف سی قلعہ کے قریب ایک مصروف مارکیٹ میں کھڑی کی گئی تھی۔
ریاض خان داوڑکے مطابق دھماکے میں ایف سی اور دیگر سیکیورٹی فورسز کے اہلکار محفوظ رہے زخمیوں میں عام شہری شامل ہیں جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
دھماکے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ دھماکے کے بعد وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ بھی جاری رہا، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
دوسری جانب نامعلوم مسلح افراد نے ایف سی قلعہ گلستان پر دستی بموں سے حملہ کیا۔ ایف سی اہلکاروں نے فوری طور پر جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں دو دہشتگرد مارے گئے۔
ایف سی بلوچستان کے ترجمان کے مطابق دہشتگردوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان کچھ دیر تک فائرنگ کا تبادلہ بھی جاری رہا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایف سی قلعہ گلستان کے آس پاس کے حالات پر قابو پا لیا گیا ہے اور علاقے میں مکمل چوکسی برقرار رکھی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں حالیہ دنوں میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس پر قابو پانے کے لیے سیکیورٹی فورسز متحرک ہیں۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ابھی تک کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز ایف سی قلعہ
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔