خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے رنگ روڈ پر پولیس موبائل کے قریب خودکش دھماکا ہوا ہے، جس میں سب انسپکٹر اور کانسٹیبل شہید ہوگئے۔ رنگ روڈ میں واقع مال منڈی کے قریب خودکش حملہ آور نے پولیس موبائل کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔دھماکے کے بعد ریسکیو 1122 اور پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچی جہاں سے زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ تفتیشی حکام نے شواہد اکھٹے کیے۔ریسکیو 1122 پشاور کے ترجمان بلال احمد نے بتایا کہ دھماکے میں 3 افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد کیلیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ اسپتال منتقلی کے بعد سب انسپکٹر اور کانسٹیبل شہید ہوگئے۔ شہید اے ایس آئی کی شناخت لیئق زادہ خان اور کانسٹیبل کی عالم زیب کے ناموں سے ہوئی ہے۔ جبکہ واقعے میں پولیس اہلکار (ڈرائیور) صداقت زخمی ہوئے ہیں۔پولیس نے تصدیق کی کہ دھماکا پولیس موبائل گاڑی کے قریب ہوا ہے۔پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے وقوعہ کو سیل کر کے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے پشاور میں پولیس موبائل کے قریب دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے شہید پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت جبکہ لواحقین سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پولیس موبائل کے قریب اور کانسٹیبل

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار