اسلام آباد:اتفاق ٹائون میں پیشہ ور بھکاریوں کا راج ،پولیس کی پراسرار خاموشی، شہریوں کا جینا دو بھر، اعلی حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ beggars WhatsAppFacebookTwitter 0 18 May, 2025 سب نیوز

اسلام آباد:وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے اتفاق ٹائون میں پیشہ ور بھکاریوں کا راج، پولیس کی پراسرار خاموشی ، شہریوں کا جینا دوبھر کر دیا، اعلی حکام سے صورتحال کا نوٹس لے کر کریک ڈائون کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے نان ڈویلپڈ سیکٹر G12 کے علاقے اتفاق ٹائون جو سیکٹر جی الیون سے بالکل جڑا ہوا اور جی 13 سے قریب واقع ہے میں پیشہ ور بھکاری جن میں 8 سال تک کے بچے بچیوں سے لے کر 70 سال کے مرد و خواتین، جدید لباس میں ملبوس، قیمتی سینڈل پہنے نوجوان خواتین و ہجڑے، نام نہاد فلاحی تنظیموں کے نمائندہ خواتین اور مدارس و مساجد کی جعلی چندہ کی رسید بکیں تھامے باریش افراد شامل ہیں صبح سویرے سے رات دس گیارہ تک دن دندناتے پھرتے ہیں، ان افراد میں بمشکل ایک یا دو فیصد حقیقی مستحق افراد شامل ہوتے ہیں۔

میک اپ سے اٹے چہرے لیے نوجوان خواتین جن میں بعض غیر شادی شدہ ہوتی ہیں یا ایسی شادی شدہ خواتین جن کے خاوند نشے کی لت میں مبتلا یا مختلف جرائم کے عادی ہیں، علاقے کے دکانداروں اور نوجوانوں سے اٹکیلیاں کرتی دکھائی دیتی، ایسی خواتین اپنے ناز و ادائوں سے نہ صرف ان افراد سے بھاری رقوم بٹورتی ہیں بلکہ موقع پا کر چوری چکاری بھی کرتی ہیں۔ ان پیشہ ور بھکاریوں کے خاندان کی تمام خواتین جن میں دادی سے لے کر پوتی تک شامل ہوتی کبھی گروہ کی شکل میں تو کبھی انفرادی طور پر ہر دکان اور آنے جانے والے سے بھیک مانگتی ہیں۔ گروہ کی صورت میں بھیک مانگنے والی خواتین فردا فردا اپنا حصہ وصول کرتی ہیں اور پرانے نوٹ بھی ان کے لیے ناقابل قبول ہوتے ہیں۔

اگر مصروفیت کی وجہ سے کوئی ان بھکاری خواتین کو تھوڑا انتظار کرنے کا کہہ دے تو ان کا رویہ ایسا ہوتا ہے گویا بھیک مانگنے نہیں بلکہ آپ کو فنڈ فراہم کرنے آئی ہوں۔ کئی ہٹے کٹے افراد بھی اس بھکاری گروہ کا حصہ ہوتے ہیں۔ یہ افراد اگر مزدوری کرنا چاہیں تو ہزار بارہ سو کی دیہاڑی آرام سے لگا سکتے ہیں، اگر انہیں کام کرنے کا کہا جائے تو جواب ملتا ہے کہ بھیک مانگنا بھی تو کام ہی ہے اور انہیں کیا ضرورت پڑی کہ وہ دن کے بھیک کے تین ساڑھے ہزار روپے چھوڑ کر ہزار بارہ سو روپے کے لیے اپنی جان جوکھوں میں ڈالیں۔

ان بھکاریوں کا انداز چندہ اکھٹا کرنے والا نہیں بلکہ بھتہ وصول کرنے والا ہوتا ہے۔ کئی باریش افراد جن میں زیادہ تر کا تعلق خیبر پختون خواہ کے دور دراز اضلاع کوہستان، بٹگرام اور بشام وغیرہ سے ہوتا ہے ہاتھ میں تسبیح اور مدارس و مساجد کی چندہ کی رسید بکیں تھامے چندہ اکھٹا کرتے پھرتے ہیں۔ ان میں اکثر مساجد و مدارس کا اول تو وجود ہی نہیں، جو چند مساجد و مدارس وجود رکھتے بھی ہیں ان کے لیے بھی یہ افراد کمیشن پر چندہ جمع کرتے ہیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ علاقے میں پولیس کا گشت بھی جاری رہتا ہے اور کئی پولیس اہلکاروں اور سرکاری افسران کی رہائش بھی اس علاقے میں ہے اور وہ روزانہ صبح شام سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھتے بھی ہیں اس کے باوجود کسی قسم کی کارروائی عمل میں نہ لانا اور پراسرار خاموشی پولیس کے کردار کو بھی مشکوک بنا دیتی ہے۔ علاقے کے عوام میں بعض کی جانب سے پولیس اور بھکاری گروہوں کی سازبازکی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے۔ علاقہ مکینوں نے صورت حال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اعلی حکام سے ان پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف کارروائی عمل میں لانے کا مطالبہ کیا ہے جن کی وجہ سے علاقے میں جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرڈوبتی انسانیت: مودی حکومت کے ظلم و بربریت کا ایک اور داستان سی ڈی اے بورڈ ممبران کا معاملہ ، ممبر اسٹیٹ تبدیل، کس ممبر کے پاس کونسا چارج گیا ؟ دستاویز سب نیوز پر فتح میزائلوں نے دشمن پر ہیبت طاری کی اور نام نہاد طاقت پاش پاش ہوگئی، وزیر داخلہ بھارتی جارحیت کو عالمی برادری کے سامنے اجاگر کرنے کیلئے بلاول کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی قائم چیئرمین سی ڈی اے کا جناح سکوائر مری روڈ انڈر پاس منصوبے کا دورہ ہرجانہ کیس؛ عمران خان کے وکیل کی وزیراعظم پر ویڈیو لنک کے ذریعے جرح علیمہ خان کی بیرون ملک جانے کی درخواست پر عدالت نے محفوظ فیصلہ سنادیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: پیشہ ور بھکاریوں اعلی حکام سے بھکاریوں کا میں پیشہ ور اسلام ا باد کا مطالبہ

پڑھیں:

مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے انسانی و مکینل وسائل بروئے کار لانے کا حکم دے دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ دریاؤں، ڈیموں اور بیراج پر نہانے پر پابندی یقینی بنائی جائے اور دریاؤں، ڈیموں اور بیراج کی ڈرون سے مانیٹرنگ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو بارش اور فلڈ سے آگاہ کرنے کے لیے مساجد اور میڈیا پر اعلانات کیے جائیں۔کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں پر مریم نواز نے لیسکو اور دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو نوٹس لینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی غفلت کی وجہ سے لوگ جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھمبوں پر بجلی کے بے ہنگم لٹکتے تار انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے واسا کمپلینٹ ہیلپ لائن پر فوری ایکشن کا ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت کی۔مریم نواز نے مون سون کے دوران ہر کنسٹرکشن سائٹ کو باقاعدہ محفوظ بنانے کی ہدایت دی اور کہا کہ انتظامیہ خستہ حال عمارتوں کا جائزہ لے کر رضاکارانہ طور پر خالی کروائے۔

متعلقہ مضامین

  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار