کشیدگی کے دوران بھارتی افواج کی جانب سے نہتے پاکستانی شہریوں پر حملے جنگی جرائم میں شامل ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارت نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے جھوٹ کا سہارا لیکر پاکستان کیخلاف کھلی جارحیت کا ارتکاب کیا،  بھارت نے نہ صرف پاکستان کیخلاف جارحیت کی بلکہ نہتے معصوم شہریوں کو ہدف بنا کر جنگی جرائم بھی کیے۔

ذرائع کے مطابق بھارتی فضائیہ کے ایئر مارشل اے کے بھارتی نے خود اعتراف کیا کہ ’اگر کوئی سویلینز مارے بھی گئے ہیں ہیں تو ان کو گننا ہمارا کام نہیں ہے‘۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارتی افواج کی 6 اور 7 مئی کو کھلی جارحیت میں 40 سویلینز شہید ہوئےجس میں 15 معصوم بچے ،7 خواتین اور 18 مرد بھی شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں:شہبازشریف کا ایرانی صدر سے رابطہ، پاک بھارت کشیدگی کے دوران برادرانہ سفارتی کوششوں کا اعتراف

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی جارحیت سے 121 پاکستانی شدید زخمی بھی ہوئے جن میں 10 خواتین اور 27 معصوم بچے شامل تھے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرتے ہوئے مسلح افواج بشمول پاک فضائیہ اور آرمی کے کل 13 بہادر بھی شہید ہوئے۔

اس حوالے سے دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ نہتے اور معصوم شہریوں کے شہید ہونے کے شواہد ثبوت ہیں کہ بھارتی افواج نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی، ایسے میں اقوام متحدہ  اور دیگر انسانی حقوق کے اداروں کو بھارت کے اس اقدام پر انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستانی افواج نے اپنے دفاع میں جتننے بھی جوابی حملے کیے اس میں صرف اور صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ پاک بھارت کشیدگی جنگی جرائم دفاعی ماہرین سیکیورٹی ذرائع.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ پاک بھارت کشیدگی جنگی جرائم دفاعی ماہرین سیکیورٹی ذرائع ذرائع کے مطابق بھارت سیکیورٹی ذرائع بھارتی افواج

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان