پاکستان اور بھارت کے مابین حالیہ کشیدگی کے بعد پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس نے پاکستان کی داخلی سیاست پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کشیدگی کے بعد پاکستانی نوجوانوں کے ذہن پاکستانی فوج کے لیے کافی حد تک بدل چکے ہیں۔

اس ساری صورتحال میں کہا جا رہا ہے کہ جہاں پاکستانی فوج کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے، وہیں عمران خان کی مقبولیت میں کمی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں بھارت نے ہمارا پانی روکا تو ایسا ردعمل دیں گے جس کے نتائج دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے، ترجمان پاک فوج

وی نیوز نے اس حوالے سے چند سیاسی تجزیہ کاروں سے بات کی اور جاننے کی کوشش کی کہ کیا واقعی عمران خان کی مقبولیت میں کمی ہوئی ہے؟ اور کیا پاکستان بھارت جنگ تحریک انصاف کی مقبولیت کے لیے منفی ثابت ہوئی ہے؟

پاک فوج کی مقبولیت میں اضافہ ہوا، ماجد نظامی

سیاسی تجزیہ کار ماجد نظامی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ عمران خان کی مقبولیت میں کمی نہیں ہوئی، بلکہ پاکستانی فوج کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اب نئے پیمانوں میں پاکستان فوج اور جنرل عاصم منیر کی مقبولیت پی ٹی آئی رہنما عمران خان کی نسبت بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ پاک فوج نے جو اعلیٰ کارکردگی پاک بھارت جنگ کے دوران دکھائی وہ قابل تحسین ہے، اور اس ساری صورتحال کو پاکستان کی اندرونی صورتحال سے منسلک نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کا غیر آئینی کردار ہماری تاریخ کا حصہ ہے، جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ عمران خان کے لیے یہ صورتحال منفی اس لیے ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ انہیں جس اسٹریٹیجی کے ذریعے رہا کروانے کا منصوبہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بنایا گیا تھا، فی الحال اس میں جان نظر نہیں آتی، اور دوسری جانب پاک بھارت جنگ کے بعد جنرل عاصم منیر کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان دونوں صورتوں میں عمران خان کی اسٹریٹیجی کامیاب نظر نہیں آتی، البتہ مذاکرات کی صورت میں وہ کوئی راستہ نکالتے ہیں، جس پر ریاست متفق ہوتی ہے تو شاید ان کی مشکلات میں کمی آجائے ورنہ کم از کم عمران خان اگلے 6 مہینے سے ایک سال تک طاقتور نظر نہیں آتے۔

پی ٹی آئی کو توقع نہیں تھی کہ فوج پھر سے عوام میں مقبول ہو جائےگی، احمد ولید

سیاسی تجزیہ احمد ولید نے کہاکہ عمران خان اور تحریک انصاف کے لیے یہ موقع ایسا تھا کہ وہ بالکل بھی توقع نہیں کر رہے تھے کہ اس طرح کی کوئی چیز ہوگی اور اچانک سے پاک فوج پھر سے عوام میں مقبول ہو جائے گی جس کے باعث ان کی پارٹی کو مجبوراً پاکستان اور پاکستان کی افواج کا ساتھ دینا پڑےگا۔

احمد ولید نے بتایا کہ پاکستان کے نوجوانوں کے ذہنوں میں جو چیزیں بیٹھی ہوئی تھیں وہ یقینی طور پر دور ہوئی ہوں گی اور پاکستان کی معیشت میں جو بہتری آئی ہے اس سے بھی خاصا فرق پڑا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان انڈیا جنگ کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت میں کمی ہوئی ہے، عمران خان امید کررہے تھے کہ شاید درمیان میں کوئی ایسا راستہ نکل آئے کہ وہ باہر آجائیں، ان کے سپورٹرز اور حمایتی بھی امیدیں لگائے بیٹھے تھے کہ شاید وہ باہر آجائیں۔

یہ بھی پڑھیں فوج نے اپنا کام کیا یا نہیں؟ ڈی جی آئی ایس پی آر کی طلبہ اور اساتذہ کے ساتھ نشست

انہوں نے کہاکہ اس سے قبل نوجوانوں کو بہت سی چیزوں کا تو اندازہ ہی نہیں تھا مگر اب وہ میچور ہوتے جا رہے ہیں اور انہیں اندازہ بھی ہو رہا ہے کہ کس طرح سے پاکستان کی سیاست چلتی ہے، اور پھر اس کے مطابق چلنا پڑتا ہے، اس واقعہ کے بعد تحریک انصاف کی مقبولیت پر کافی حد تک اثر پڑا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آرمی چیف پاکستان بھارت کشیدگی جنرل عاصم منیر عمران خان رہائی عمران خان مقبولیت مسلح افواج وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا رمی چیف پاکستان بھارت کشیدگی عمران خان رہائی عمران خان مقبولیت مسلح افواج وی نیوز عمران خان کی مقبولیت میں کمی تحریک انصاف کی انہوں نے کہاکہ پاکستان کی اضافہ ہوا ہوئی ہے پاک فوج کے بعد کے لیے

پڑھیں:

عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی

اڈیالا جیل راولپنڈی میں بانی پی ٹی آئی اور ان کی زوجہ محترمہ کی ملاقات کانفرنس روم میں کرائی گئی، ملاقات 50 منٹ تک جاری رہی۔ دوسری جانب بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے آئے وکلاء اور فیملی ارکان میں سے کسی بھی شخص کو ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔   اسلام ٹائمز۔ اڈیالا جیل راولپنڈی میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کروا دی گئی۔ جیل ذرائع کے مطابق ملاقات کانفرنس روم میں کرائی گئی، ملاقات 50 منٹ تک جاری رہی۔ دوسری جانب بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے آئے وکلاء اور فیملی ارکان میں سے کسی بھی شخص کو ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔ وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی، شفیع جان، مینا خان آفریدی فیکڑی ناکے پر موجود رہے، بانی کی تینوں بہنیں کارکنان کی کثیر تعداد کے ہمراہ فیکٹری ناکے پر موجود رہیں۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی