ضلع کورنگی پولیس مسلح ڈکیتوں کو روکنے میں مکمل ناکام ہوگئی جب کہ موٹر سائیکل چھینے کی واردات کے دوران مزاحمت پر فائرنگ کرکے نوجوان کو قتل کردیا  گیا اور رواں سال روشنیوں کے شہرمیں ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت پرجاں بحق شہریوں کی تعداد 46 ہو گئی۔

شہرقائد میں مسلح ڈکیتوں کے ہاتھوں معصوم ونہتے شہریوں کے جاں بحق ہونے واقعات تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔

پیرکی دوپہرعوامی کالونی تھانے کےعلاقے کورنگی ساڑھے تین میں 2 نامعلوم مسلح ملزمان نے اسلحے کے زورپر موٹرسائیکل چھینے کی واردات کے دوران مزاحمت پر فائرنگ کرکے نوجوان کوشدید زخمی کردیا اوراس کا موبائل فون اورموٹرسائیکل چھین کرفرارہوگئے۔

مسلح ڈکیتوں کی فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والا نوجوان کافی دیرتک جائے وقوع پرپڑا رہا جس کے بعد اہل محلہ نے رکشے کے ذریعے قریبی ایمبولنس اسٹاپ پر پہنچایا، عدازاں اسے جناح اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑگیا۔

مقتول نوجوان کی شناخت30 سالہ حافظ فیصل محمود ولد مولانا محمد نور الاابصارکے نام سے کی گئی، مقتول نوجوان کورنگی ساڑھے تین این ایریا میں واقع جامعہ مسجد مدنی سے متصل گھرمیں رہائش پذیر تھا۔

مقتول جامعہ مسجد مدنی کے مؤذن اورنکاح خواہ کا بیٹا تھا، مقتول نوجوان غیرشادہ شدہ اوربچوں کوناظرہ کی تعلیم دیا کرتا تھا۔

جس وقت مسلح ڈکیتوں مقتول نوجوان کو فائرنگ کرکے شدید زخمی کیا اس وقت مقتول اپنے بھانجے کوگھر کے قریب واقع اسکول سے لینے جا رہا تھا کہ راستے میں پیدل 2 نامعلوم مسلح ڈکیتوں نے اس سے واردات کی اورفرارہوگئے۔

مقتول  نوجوان 6 بھائیوں میں چوتھے نمبرپرتھا، فائرنگ کے واقعے کے بعد ایس ایس پی کورنگی طارق نواز بھی جائے وقوع پر پہنچے۔

ایس ایس پی کورنگی نے بتایا کہ مقتول نوجوان کو دو نامعلوم مسلح ڈکیتوں نے فائرنگ کرکے قتل کیا ہے اورپولیس نے جائے وقوع سے تمام شواہد اورسی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کرلی ہیں اور امید ہے کہ ملزمان کا جلد سراغ مل جائے گا اورانہیں گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

انھوں نے بتایا کہ گزشتہ چند روزمیں ضلع کورنگی میں ڈاکوؤں کی فائرنگ کے سے شہریوں کے جاں بحق ہونے کے واقعات پر پولیس دل جمعی سےکام کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے شواہد اکٹھا کرلیے ہیں اورملزمان کی شناخت بھی کرلی گئی ہے امید ہے جلد ملزمان گرفتارہوجائیں گے انھوں نے بتایا کہ اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں پر قابوپانے کے لیے ضلع میں پولیس پیٹرولنگ میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

ادھرمقتول کے بھائی محمد زکریا نے بتایا کہ مقتول بچوں کو دینی تعلیم دیتے تھے، انھوں نے بتایا کہ ان کا بھانجا نجی اسکول میں پڑھتا ہے اورمقتول بھانجے کواسکول سے لینے کے لیے جا رہا تھا کہ راستے میں واقعہ رونما ہوگیا۔

انھوں نے بتایا کہ اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں ملوث ملزمان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے۔

مقتول نوجوان کے رشتہ دارنے بتایا کہ کورنگی میں شہری محفوظ نہیں ہیں، ایک شخص سے گھر نکل کر کچھ فاصلے میں بچوں کو اسکول لینے جاتا ہے تو راستےمیں اسے ڈکیتی مزاحمت پر قتل کردیا جاتا ہے۔

مقتول کے چچا کا کہنا تھا کہ شہرمیں آئے دن مسلح ڈکیت کھلے عام شہریوں کی جانیں لے رہے ہیں لیکن انہیں روکنے والا کوئی نہیں ہے، بھتیجے کی جان بھی گئی اور اس کا موبائل فون اورموٹرسائیکل بھی چھین کر لے گئے۔

پولیس واقعے کے دوگھنٹے کے بعد جائے وقوع پرپہنچتی ہے، ان سے کوئی پوچھنے والا کوئی نہیں ہے، ا انہوں نے حکومت سے مطالبہ کہ ڈکیت چھوٹی چھوٹی چیزوں پرشہریوں کو جانوروں اور پرندوں کی  طرح قتل کر رہے ہیں انہیں روکنے کے لیے فوری اقدامات کیئے جائیں۔

واضح رہے کہ ضلع کورنگی میں پانچ روزکے دوران مسلح ڈکیتوں نے بچے سمیت 3 شہریوں کو قتل کردیا جبکہ شہر میں8 گھنٹوں کے دوران 2 شہری ڈکیتوں کے ہاتھوں جان گوا بیٹھے ہیں۔

رواں سال روشنیوں کے شہرمیں ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت پرجاں بحق شہریوں کی تعداد 46 ہوگئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی واردات کے دوران مزاحمت پر مقتول نوجوان فائرنگ کرکے مسلح ڈکیتوں کورنگی میں قتل کردیا نوجوان کو تھا کہ قتل کر جا رہا

پڑھیں:

اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار

روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔

معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔

بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟