سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پیپلزپارٹی راہنما کا کہنا تھا کہ بل کا مقصد بار کونسلز میں سینئر اور تجربہ کار وکلاء کو بار کونسلز کا حصہ بنانا ہے، بار کونسلز انتخابات میں پیسے کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ فاروق حامد نائیک نے لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز (ترمیمی) بل 2025ء سینیٹ میں پیش کر دیا۔ سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ بل کا مقصد بار کونسلز میں سینئر اور تجربہ کار وکلاء کو بار کونسلز کا حصہ بنانا ہے، بار کونسلز انتخابات میں پیسے کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے بل کی سخت مخالفت کی گئی، شبلی فراز نے کہا کہ بل مخالفت کمیٹی میں یا ایوان میں ہو ہم اس کی مخالفت کریں گے۔ اس پر جواب دیتے ہوئے اعظم تارڑ کا کہنا تھا کہ یہ بڑا نوبل شعبہ ہے، اسے سیاست کی نظر نہ کریں، انہوں نے بل کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کرنے کی تجویز پیش کی۔

فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ بار کونسل کے انتخابات کسی سیاسی جماعت کے الیکشن نہیں، جس پر اعظم تارڑ نے کہا کہ بار کونسلز انتخابات کی مدت میں توسیع کی کوئی تجویز زیر غور نہیں، وکلاء نے قانون کی حکمرانی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور کر رہے ہیں، 5 بار کونسلز سمیت وکلاء تنظیموں کی تجاویز آ چکی ہیں، بار کونسلز کے انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے۔ بعد ازاں قائم مقام چیئرمین سینیٹ نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ بار کونسلز

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟