رانا ثناء نے عمران خان کیلئے کسی ریلیف یا ڈیل کے امکان کو مسترد کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان اور ملک کی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ’’شدید عدم اعتماد‘‘ کی وجہ سے سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ کسی ڈیل یا ریلیف کا کوئی امکان نہیں ہے۔ دی نیوز کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پس پردہ ڈیل یا مذاکرات کی باتیں اکثر و بیشتر منظر عام پر آتی رہتی ہیں لیکن زمینی حقائق یکسر مختلف ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ عدم اعتماد کی سطح اس قدر زیادہ ہو تو عمران خان کو کسی ڈیل کی پیشکش یا کوئی ریلیف کیسے دیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کسی طرح کے بریک تھرو کے امکانات کو مسترد کر دیا۔ نون لیگ کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ سیاسی مفاہمت پر اپنے بھرپور موقف کیلئے پہچانے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے دیرینہ موقف کا اعادہ کیا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت ہی آگے بڑھنے کا واحد قابل عمل راستہ ہے۔ تاہم، انہوں نے عمران خان کی مذاکراتی عمل میں شمولیت پر آمادگی پر شکوک کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ عمران خان ایسا کریں گے لیکن ان کیلئے بہترین آپشن یہ ہے کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بیٹھیں اور نئے میثاق جمہوریت اور میثاق معیشت پر دستخط کریں۔ رانا ثناء اللہ کے مطابق، ایسے اقدام سے عمران خان اور پی ٹی آئی کو فوراً کوئی فائدہ نہیں ہوگا، لیکن ان کے معمول کی سیاست میں آنے کی راہ ہموار ہوگی۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی قیادت پر زور دیا کہ وہ بدلتی ڈائنامکس کو تسلیم کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہائبرڈ نظام پائیدار ہے اور نہ دشمنی کی سیاست غیر معینہ مدت تک جاری رہ سکتی ہے۔ رانا ثناء اللہ نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے گزشتہ دور کا بھی حوالہ دیا جس میں ان کے بقول عمران خان نے رکاوٹ ڈالی تھی۔ رانا ثنا اللہ کے مطابق، ان مذاکرات کے دوران انہوں نے جمہوری تسلسل اور معاشی استحکام یقینی بنانے جیلئے جامع چارٹر پر دستخط کا خیال پیش کیا تھا۔ انہوں نے پائیدار گورننس کیلئے سیاسی مذاکرات کی ضرورت کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر عمران خان اب بھی مذاکرات سے انکار کرتے ہیں تو بالآخر ان کے جانشین کو ایسا کرنا پڑے گا۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: رانا ثناء اللہ پی ٹی ا ئی انہوں نے کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔