نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر مسافر اور اے ایس ایف عملے میں جھگڑا، ویڈیو سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بیرون ملک جانے والے مسافر اور اے ایس ایف عملے میں جھگڑا ہوگیا، جھگڑا مبینہ طور پر مسافر کے اسٹاف گیٹ استعمال کرنے کی کوشش پر شروع ہوا۔
نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر مختلف انڑنیشنل پروازوں کی آمد و روانگی جاری تھی کہ انڑنیشنل ڈیپارچر لاونج کے انڑی گیٹ پر اے ایس ایف کے عملے اور فیملی و بچوں کے ساتھ بیرون ملک جانے والے مسافر کے درمیان اچانک تکرار کے بعد جھگڑا شروع ہوگیا۔
واقعے کی ویڈیو فٹیج بھی سامنے آگئی، ویڈیو فوٹیج میں اے ایس ایف اہلکار کو اپنے ساتھیوں کی جانب اشارہ کرتے دیکھا اور یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ یہ تھپڑ مارے گا، اس کو نہیں چھوڑوں گا۔
ویڈیو میں ایئرپورٹ پر موجود لوگ نیلی ٹی شرٹ پہنے مسافر کو سمجھاتے بھی سنے اور دیکھے جاسکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق معاملہ بڑھتے دیکھ کر سینیئر حکام موقع پر پہنچنے تو مسافر نے ایئرپورٹ سیکورٹی فورس کے عملے کی جانب سے نازیبا زبان استعمال کرنے اور ہاتھ اٹھانے کا الزام عائد کیا، تاہم دونوں جانب کا موقف سن کر مسافر کی جانب سے معاملہ غلط فہمی کے باعث پیش آنے کی تحریر دینے پر نمٹا دیا گیا۔
معاملہ نمٹائے جانے پر مسافر بھی بچوں اور فیملی کے ساتھ پرواز کے ذریعے روانہ ہوگیا۔
اے ایس ایف حکام کا کہنا تھا کہ مسافر رش کے باعث اسٹاف گیٹ سے لاؤنج میں داخل ہونا چاہتا تھا۔
اسٹاف گیٹ صرف ائیرپورٹ پر تعینات اسٹاف اور دیگر فنکشنریز کے لیے مختص ہوتا ہے، اسٹاف گیٹ استمال کرنے کی ضد پر مسافر کو روکا گیا تو تلخ کلامی ہوئی تاہم بعد میں معاملہ رفع دفع کرادیا گیا اور مسافر فیملی سمیت روانہ ہوگیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اے ایس ایف پر مسافر
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔