احسن اقبال‘ سرفراز بگٹی ملاقات: بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال سے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اسلام آباد میں ملاقات کی، ملاقات میں پی ایس ڈی پی کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بلوچستان کی ترقی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور بہتر منصوبہ بندی سے متعلق اہم مشاورت ہوئی۔ احسن اقبال نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کر رہی ہے۔ وفاقی و صوبائی ہم آہنگی کے ذریعے بلوچستان کو ترقی کی نئی راہوں پر گامزن کریں گے۔ کوشش ہے کہ آئندہ پی ایس ڈی پی کا حجم بڑھا کر صوبوں کو مزید ترقیاتی مواقع فراہم کیے جائیں، پی ایس ڈی پی 2025-26ء کا جائزہ لیا۔ سرفراز بگٹی نے کہا کہ تمام منصوبوں پر اطمینان ہے، صوبائی حکومت ترقیاتی عمل میں وفاق کے ساتھ قدم بہ قدم چلنے کے لیے پرعزم ہے۔ ترقیاتی ایجنڈے میں وفاق کے ساتھ صوبوں کی شراکت قابل ستائش ہے۔ سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں جو وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی صدارت میں ہوا، 10 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی، چار منصوبے جن کے لاگت 21.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اسلام ا باد احسن اقبال
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔