گلگت بلتستان اسمبلی میں جوتا چل گیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
منگل کے روز لینڈ ریفارمز بل کے معاملے پر اپوزیشن رکن اسمبلی نواز خان ناجی نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں جس پر وزیر اعلیٰ گلبر خان، صوبائی وزیر حاجی رحمت خالق اور ممبر اسمبلی فضل رحیم طیش میں آ گئے اور ناجی پر حملہ آور ہو گئے۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان اسمبلی میں لینڈ ریفارمز بل پر ہونے والی بحث ہاتھا پائی میں بدل گئی۔ وزیرا علیٰ سمیت تین حکومتی اراکین اسمبلی اپوزیشن رکن نواز خان ناجی پر حملہ آور ہو گئے۔ دیگر اراکین نے بیچ بچاؤ کرایا۔ منگل کے روز لینڈ ریفارمز بل کے معاملے پر اپوزیشن رکن اسمبلی نواز خان ناجی نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں جس پر وزیر اعلیٰ گلبر خان، صوبائی وزیر حاجی رحمت خالق اور ممبر اسمبلی فضل رحیم طیش میں آ گئے اور ناجی پر حملہ آور ہو گئے۔ فضل رحیم نے اپنے جوتے اتار کر نواز ناجی کو دے مارا۔ وزیر اعلیٰ گلبر خان اور رحمت خالق بھی نواز ناجی کی جانب بڑھنے لگے۔ اسی دوران دیگر اراکین اسمبلی نے بیچ بچاؤ کرایا۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز حکومت کی جانب سے زمینوں کی اصلاحات کا بل اسمبلی میں پیش کیا تھا جس کی اپوزیشن نے شدید مخالفت کی ہے۔ اپوزیشن کا موقف ہے کہ بل کے ذریعے گلگت بلتستان کے عوام کو ان کی زمینوں سے محروم کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
سٹی 42: خصوصی مشیر وزیر اعلیٰ علی ڈارکی زیر صدارت خصوصی اجلاس ہوا۔ جس میں علی ڈار نے داتاؒ دربار عرس کیلئے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا
صوبائی وزیر بلال یاسین، وائس چیئرمین ایل ڈی اے میاں مرغوب احمد شریک ہوئے ۔ سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ، ڈپٹی کمشنر لاہور محمد علی اعجاز،ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران، ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق و دیگر شریک ہوئے ۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ حضرت داتا گنج بخش ؒ کا تین روزہ سالانہ عرس 2 تا4 اگست کو منعقد ہوگا،خطیب داتا ؒدربار مولانا ندیم مختار نے سیرت و صوفی کانفرنسز سے متعلق آگاہ کیا۔محافل، قرأت اور نعت خوانی کے مقابلوں کے انعقاد سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
علی ڈار نے کہا داتاؒ دربار تعمیراتی منصوبہ عہد ساز اور تاریخی نوعیت کا حامل ہے،عرس میں دنیا بھر سے زائرین حاضری کی سعادت حاصل کریں گے،زیرِ تعمیر انڈر پاس اور متعلقہ سڑکیں عرس سے قبل کھولی جائیں گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی