مورو میں قوم پرست جماعتوں کا احتجاج(2 افراد جاں بحق،وزیر داخلہ ضیاء لنجار کا گھر نذر آتش)
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
کینال اور کارپوریٹ فارمنگ منصوبے کیخلاف قوم پرست اور پولیس آمنے سامنے ، ڈی ایس پی مورو سمیت درجنوں اہلکار اور قوم پرست کارکن زخمی ، 10 ٹرالر کو آگ لگا دی
مشتعل مظاہرین کی لنجار ہاؤس میں گھس کر توڑ پھوڑ ، ڈی ایس پی مورو غلام حسین ڈاہری عرف فیاض ڈاہری سمیت پولیس اہلکاروں پر ڈنڈوں، اینٹوں، مکوں سے تشدد،شہر بند
کینال اور کارپوریٹ فارمنگ منصوبے کیخلاف قوم پرست اور پولیس آمنے سامنے ، پولیس تشدد میں درجنوں قوم پرست اور قوم پرستوں کی جوابی کارروائی میں ڈی ایس پی مورو سمیت درجنوں پولیس اہلکار زخمی ہوگئے، تفصیلی خبر موجب مورو بائی پاس کے مقام پر کینال اور کارپوریٹ فارمنگ منصوبے کیخلاف قوم پرست جماعت کے کارکنوں نے دھرنا دیا جس پر پولیس نے دھاوا بول دیا، پولیس کے لاٹھی چارج میں عرفان لغاری، وشال لغاری سمیت درجنوں قوم پرست کارکن زخمی ہوگئے، پولیس تشدد میں ایک قوم پرست کارکن عرفان لغاری کی موت کی افواہ کے بعد قوم پرست کارکنوں نے پولیس پر حملہ کرکے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور اسپتال میں آنے والے ڈی ایس پی مورو غلام حسین ڈاہری عرف فیاض ڈاہری سمیت پولیس اہلکاروں پر ڈنڈوں، اینٹوں، مکوں سے تشدد کیا جس پر پولیس نے بھاگ کر جان بچائی، اس موقع پر مشتعل مظاہرین نے قومی شاہراہ پر کھڑے کھاد کے ٹرالر سے لوٹ مار کی، کھاد اتار کر 10 ٹرالر کو آگ لگا دی، مظاہرین نے قومی شاہراہ پر واقع صوبائی وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کے لنجار ہاؤس میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور اسے آگ لگا دی، ان پرتشدد واقعات بعد ضلع بھر سے بھاری پولیس نفری کو مورو طلب کرلیا ہے مورو کی صورت حال کشیدہ ہونے کے بعد شہر میں مکمل شٹر بند ہوگیا ہے اور علاقے میں شدید خوف حراس پھیلا ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ڈی ایس پی مورو پولیس ا
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔